Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
561 - 1040
حدیث نمبر561
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے آپ فرماتے تھے کہ میں نہیں پرواہ کرتا شراب پیئوں یا اﷲ کے مقابل اس ستون کو پوجوں ۱؎(نسائی)
شرح
۱؎ مقصد یہ ہے کہ میرے نزدیک شراب پینا اور بت پوجنا ایک درجہ کی حماقت و بے وقوفی ہے کہ بت پرستی میں سواء نقصان کوئی فائدہ نہیں،یوں ہی شراب نوشی میں صرف نقصان ہے فائدہ کوئی نہیں۔

خاتمہ:بھنگ،چرس،افیون،تمباکو!

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں اس جگہ دو باتیں بہت ضروری فرمائیں:(۱)ایک یہ کہ سواء شراب انگوری کے دوسری تمام شرابیں جمہور علماء کے نزدیک تو مطلقًا حرام ہیں مگر احناف کے نزدیک جب حرام ہیں جب کہ نشہ دیں یا لہو لعب کے لیے پی جائیں۔حق مذہب جمہور ہے کہ ہر شراب مطلقًا حرام ہے نشہ دے نہ دے،مفتی کو اسی پر فتویٰ دینا چاہیے۔(۲)دوسرے یہ کہ خشک نشہ آور چیزیں جیسے بھنگ،چرس،افیون میں بھی اختلاف ہے،فیصلہ یہ ہے کہ دوا میں ان چیزوں کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ نشہ نہ دیں،نشہ دیں تو یہ حرام ہیں،نیز ان چاروں کا استعمال لذت کے لیے حرام ہے اگرچہ نشہ نہ دیں کہ ہر لہو باطل ہے،نیز یہ چیزیں پاک ہیں کہ اگر نمازی کے جیب میں افیون وغیرہ کی پڑیا پڑی ہو تو نماز ہوجائے گی،نیز بھنگ افیون وغیرہ کی تجارت جائز تو ہے کہ ان کا استعمال دواءً حلال ہے مگر نہ تو زیادہ کی تجارت کرے نہ نشہ والوں کے ہاتھ فروخت کرے حتی کہ شراب بنانے والے کے ہاتھ بہت مقدار میں انگور بھی نہ بیچے کہ یہ حرام پر امداد ہے، نیز افیون،بھنگ،چرس کی کاشت جائز ہے جب کہ اس سے کاشتکار کی نیت نشہ  کرنے یا نشہ کرانے کی نہ ہو صرف دواءً فروخت کرنے کی ہو۔تمباکو کے احکام اس سے بھی ہلکے ہیں کہ تمباکو پینا یا کھانا نشہ کے لیے حرام ہے نشہ دے تو حرام نہیں،جو شخص بھنگ،چرس،افیون سے نشہ کرے اس پر حد نہیں بلکہ تعزیر ہے۔علامہ شامی نے  شامی جلد پنجم کتاب الاشربہ میں تمباکو کے بہت خصوصی احکام بیان فرمائے،فیصلہ یہ فرمایا کہ تمباکو  حلال ہے مگر اس سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے لہذا طبعًا مکروہ ہے،نشہ دے تو حرام۔
Flag Counter