Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
544 - 1040
حدیث نمبر544
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ سرکہ سے بنالی جائے ۱؎ تو فرمایا نہیں ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس طرح کہ شراب میں پیاز یا نمک ڈال دیا جائے یا دھوپ میں رکھ دی جائے حتی کہ سرکہ بن جائے۔

۲؎ یعنی شراب کو کسی تدبیر سے سرکہ نہ بناؤ بلکہ اسے پھینک دو۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک اگر شراب سرکہ بنالی گئی تو پاک بھی ہوجائے گی اور حلال بھی،امام احمد کے نزدیک وہ حرام اور ناپاک ہی رہے گی،امام مالک کے نزدیک شراب سرکہ بنانا حرام ہے لیکن اگر بنا لی جائے تو پاک ہوجائے گی،امام شافعی کے نزدیک اگر پیاز یا نمک ڈال کر سرکہ بنائی گئی تو نجس رہے گی اور اگر دھوپ میں رکھ کر سرکہ بنائی گئی تو پاک ہوجائے گی،امام ابوحنیفہ و امام اوزاعی اور لیث کے نزدیک یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب کہ شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی خطرہ تھا کہ اگر لوگوں نے سرکہ بنانا شروع کردیا تو شراب چھوڑیں گے نہیں اس لیے شراب گرا دینے کا حکم دیا گیا جیسے اولًا شراب کے برتنوں کا استعمال بھی حرامت تھا جبکہ لوگ شراب چھوڑ دینے کے عادی ہوگئے شراب کوبھول گئے تب یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا امام اعظم کی دلیل حضور کایہ فرمان عالی نعم الادام الخل سرکہ اچھا سالن ہے اس حدیث میں سرکہ مطلق ہے خواہ اول سے ہی سرکہ ہو یا شراب کا بنایا گیا ہو۔(مرقات و اشعہ)
Flag Counter