| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی لی نشہ میں ہوگیا تو اسے راستہ میں جھومتے ہوئے پایا گیا ۱؎ تو اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لے کر چلا گیا جب وہ حضرت عباس کے گھر کے سامنے آیا ۲؎ تو وہ چھوٹ گیا تو حضرت عباس پر داخل ہوگیا انہیں لپٹ گیا۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو حضور انور ہنس پڑے اور فرمایا اس نے یہ کیا اور اس کے بارے میں کچھ حکم نہ دیا ۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ راوی کا شرب فرمانا اپنے گمان کی بنا پر ہے ورنہ اسے شراب پیتے کسی نے نہ دیکھا تھا نہ اس نے شراب پی لینے کا اقرار کیا تھا صرف اس کے جھومنے سے سمجھا گیا کہ اس نے شراب پی ہےلہذاحدیث بالکل واضح ہے۔ فج اس وسیع راستہ کو کہتے ہیں جو دو پہاڑوں کے درمیان ہو،اب ہر وسیع راستہ کو کہنے لگے لہذا فج خاص ہے اور طریق و صراط سبیل عام یعنی ہم اسے گلی کوچوں سے نہ لائے بلکہ شارع عام سے لائے۔ ۲؎ بعض شارحین نے یہاں دھوکا کھایا ہے کہ یہ واقعہ مکہ معظمہ کا ہے کیونکہ حضرت عباس کا گھر لب سڑک مکہ معظمہ میں ہی تھا مدینہ منور ہ میں نہ تھا بلکہ مدینہ پاک میں ان کا گھر گلی کوچہ میں تھا،مگریہ قول درست نہیں کیونکہ ہجرت سے پہلے شراب حرام نہ تھی،نیز وہاں حکومت اسلامیہ قائم نہ ہوئی تھی کہ مجرم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لائے جاتے لہذا حق یہ ہے کہ یہ واقعہ بعد ہجرت کا ہے اور شراب حرام ہوچکنے کے بعد کا ہے ورنہ اسے پکڑا نہ جاتا۔اور حضرت عباس کے گھر کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس گلی کے کنارہ پر پہنچے جہاں حضرت عباس کا گھر ہے،محاذات یعنی مقابلہ اسی کو شا مل ہے۔ ۳؎ یعنی بغیر اجازت آپ کے گھر میں گھس گیا اور آپ سے لپٹ گیا کہ مجھے ان سے چھوڑا لو اور سزا سے بچالو،کیوں اس لیے۔مصرع ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے ؎ مگر اسے پھر پکڑ لیا گیا۔ ۴؎ سرکار عالی صلی اللہ علیہ و سلم ہنسے تو اس کا یہ عجیب کام سن کر اور سزا اس لیے نہ دی کہ اس کے شراب پینے پر گواہی قائم نہ تھی۔اس سے حنفی مسئلہ کی تائید ہوتی ہے کہ صرف جھومنے سے شراب کی سزا نہیں دی جاسکتی بلکہ عینی گواہی ضروری ہے یا اقرار۔جو حضرات صرف جھومنے پر حد لگادینے کے قائل ہیں وہ یہاں یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت شراب حرام نہ ہوئی تھی مگر یہ توجیہ درست نہیں ورنہ پھر صحابہ اسے گرفتار کرکے بارگاہ نبوت میں حاضر نہ کرتے گرفتاری تو سزا کے لیے ہوتی ہے اور سزا جرم پر ہوتی ہے اور شراب پینا جرم جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ شراب حرام ہو چکی ہو۔