۱؎ خائن وہ جو کسی کی امانت مارے خواہ اس طرح کہ کسی کی چیز عاریۃً مانگ کر لے جائے بعد میں جھوٹ کہہ دے کہ کھو گئی یا عاریۃً کا انکار کردے یا اس طرح کہ کوئی اس کے پاس بطور ودیعت مال رکھے اور یہ ہضم کرے امین کا مقابل۔منتہب وہ جو علانیہ جبرًا کسی کا مال چھین لے اور مختلس وہ جو کسی کے ہاتھ سے جلدی سے اچک کر چیز لے کر چلتا بنے ان تینوں کے ہاتھ نہ کٹیں گے۔خائن چونکہ ایسا مال لیتا ہے جو مالک کی حفاظت میں نہیں بلکہ خود اس کی اپنی حفاظت میں ہے اس لیے یہ مال اس کے حق میں غیرمحفوظ ہے لہذا یہ کام چوری نہ بنا اور لٹیرے یا اچکے کا ہاتھ کٹے گا کہ اگرچہ اس نے مال محفوظ تو کرلیا مگر خفیہ نہ لیا بہرحال یہ تینوں سارق یعنی چور نہیں لہذا ان کی سزا یہ نہ ہوگی،چاروں اماموں کا یہ ہی مذہب ہے البتہ اسحاق ابن راھویہ کا قول ہے کہ خائن کا ہاتھ کٹے گا کیونکہ مسلم و بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی،مدینہ منورہ میں ایک عورت عاریۃً چیز لے کر انکار کر دیتی تھی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا ہاتھ کٹوادیا مگر ائمہ اربعہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کا ہاتھ اس خیانت سے نہ کٹا بلکہ اس نے ایک بار چوری بھی کرلی پھر کٹا،حضرت ام المؤمنین نے یہاں اس عورت کا وصف مشہور بیان فرمایا ہے،وجہ قطع بیان نہ فرمائی اور اگر خیانت سے ہاتھ کٹوایا گیا تو یہ حدیث اس کی ناسخ ہے وہ عورت یا تو فاطمہ بنت اسود ابن عبدالاسود تھی یا عمیرہ بنت سفیان ابن الاسود تھی۔(مرقات)