۱؎ نہبۃ غنیمت کو بھی کہتے ہیں اور کسی کا مال علانیہ زبردستی چھین لینے کو بھی کہتے ہیں،یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی علانیہ زبردستی مال چھین لینے والے کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ ہاتھ کٹتا ہے چوری سے اور چوری میں خفیہ لینا ضروری ہے یا جو غازی غنیمت کے مال میں تقسیم سے پہلے چوری کرے اس کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ اس غنیمت میں چور کا بھی حصہ ہے اور جس مال میں چور کا بھی حصہ ہو اس کی چوری سے ہاتھ نہیں کٹتا لہذا ان دو توجیہوں پر اس سے دو مسئلے حاصل ہوں گے۔(اشعہ)
۲؎ یعنی جو ظالم کھلے بندوں لوگوں کا مال چھین لے اور لوگ منہ تکتے رہ جائیں ایسا ظالم ہمارے طریقہ ہماری جماعت سے خارج ہے،اسلام سے نکل جانا مراد نہیں کہ یہ جرم فساد عمل ہے فساد عقیدہ نہیں۔خیال رہے کہ ڈاکو کے ہاتھ نہ کٹیں گے بلکہ ڈکیتی کی سزائیں مختلف ہیں بعض صورتوں میں اس کو سولی دی جائے گی۔