Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
496 - 1040
حدیث نمبر496
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ کی حدود میں سے ایک سزا کا قائم کرنا اﷲ کے شہروں میں چالیس رات کی بارش سے بہتر ہے ۱؎(ابن ماجہ)اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔
شرح
۱؎  یہاں چالیس رات کی مسلسل موسلادھار بارش مراد نہیں کہ وہ تو مضر ہے بلکہ چالیس دن کی مفید بارش مراد ہے جو ٹھہرٹھہر کر بقدر ضرورت ہو،سزائیں جرموں کی روک،امان کا قیام،آسمانی رحمت کے نزول کا ذریعہ ہیں،حدیث پاک میں ہے کہ انسانوں کے گناہ کی وجہ سے بٹیریں اپنے گھونسلوں میں بھوکی مرجاتی ہیں یعنی ان کے گناہوں سے بارش نہیں ہوتی جس سے جانور بھی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں،بٹیر کا خصوصیت سے ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ بہت دور تک چُگ آتی ہیں۔چنانچہ بصرہ میں بٹیر ذبح ہو تو اس کے پیٹ سے سبز گندم نکلتی ہے حالانکہ بصرہ سے بہت دور گندم کی فصل ہوتی ہےکئی دن کے راہ پر۔(مرقات)
Flag Counter