۱؎ یہاں چالیس رات کی مسلسل موسلادھار بارش مراد نہیں کہ وہ تو مضر ہے بلکہ چالیس دن کی مفید بارش مراد ہے جو ٹھہرٹھہر کر بقدر ضرورت ہو،سزائیں جرموں کی روک،امان کا قیام،آسمانی رحمت کے نزول کا ذریعہ ہیں،حدیث پاک میں ہے کہ انسانوں کے گناہ کی وجہ سے بٹیریں اپنے گھونسلوں میں بھوکی مرجاتی ہیں یعنی ان کے گناہوں سے بارش نہیں ہوتی جس سے جانور بھی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں،بٹیر کا خصوصیت سے ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ بہت دور تک چُگ آتی ہیں۔چنانچہ بصرہ میں بٹیر ذبح ہو تو اس کے پیٹ سے سبز گندم نکلتی ہے حالانکہ بصرہ سے بہت دور گندم کی فصل ہوتی ہےکئی دن کے راہ پر۔(مرقات)