۱؎ اگرچہ وہ مدینہ منورہ میں ذمیہ ہوکر رہتی تھی مگر پھر بھی یہ حرکت کرتی تھی۔
۲؎ یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کہ ذمی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرے تو اس کا ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ حربی ہوجائے گا لہذا اس کے قتل پر نہ قصاص ہوگا نہ دیت،ہمارے ہاں اس حرکت سے ذمہ باطل نہ ہوگا کیونکہ حضور کی اہانت کفر ہے جب وہ پہلے سے ہی کافر ہے جب کہ خدا کو مانتا ہے مگر رہتا ہے ذمی تو اس کفر سے بھی ذمی ہی رہے گا،یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا اس کا قتل ذمہ ٹوٹنے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ مسلمان کے دینی طیش کی بنا پر تھا جس بنا پر یہ حکم جاری ہوا۔