۱؎ یعنی مسلمانوں کے بازار یا مسجد سے گزرے جہاں مسلمانوں کا مجمع ہو،مسلمانوں کا ذکر یا تو احترام کے لیے ہے یا کفار حربی کے بازاروں کو نکالنے کے لیے کہ حربی کفار کو زخمی کردینا جائز بلکہ ثواب ہے۔خیال رہے کہ حربی کفار کا اور حکم ہے اور ذمی مستامن کفار کا حکم کچھ اور ہے،یہاں بازارومسجد کا ذکر ہے مگر مراد تمام اجتماعات ہیں جیسے منٰی،عرفات،مزدلفہ،عرس اور میلے وغیرہ۔
۲؎ نبل بمعنی تیر،یہ جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،سہم کے معنے بھی تیر ہیں جمع سہام۔
۳؎ نصال جمع ہے نصل کی،نصل تیرکی نوک کو کہتے ہیں جس کے نیچے پر ہوتے ہیں یہ نہایت تیز ہوتی ہے یہ ہی شکار وغیرہ کے جسم میں پیوست ہوجاتی ہے،تھام لینے سے مراد ہے اس پر ہاتھ رکھ لینا یا کوئی غلاف وغیرہ چڑھا دینا۔
۴؎ ان یصیب میں ان کے بعد لا پوشیدہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رفاہ عام کی چیزوں میں مسلمانوں کو نفع پہنچانے یا مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کی نیت کرے اگرچہ دوسری قومیں بھی فائدہ اٹھالیں لہذا مسافر خانہ،ہسپتال،سایہ دار درخت،کنواں وغیرہ ان سب میں یہ ہی نیت ہونی چاہیے گو ان سے نفع سب اٹھائیں۔