۱؎ قتل شبہ عمد کی صورت ابھی پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ باارادۂ قتل ناقابل قتل آلہ سے ہلاک کرنا شبہ عمد ہے جیسے قمچی وغیرہ سے قتل،اس کی دیت سخت ترین یعنی سو اونٹ مگر ان کے تین حصہ جس کی تفصیل آگے آرہی ہے خفیف دیت۴ حصہ والی دیت نہیں جو کہ قتل خطاء میں ہوتی ہے۔
۲؎ اونٹ کا تین سالہ بچہ حقہ کہلاتا ہے کہ اب وہ سواری کا حقدارولائق ہوگیا اور چار سالہ بچہ جو پانچویں سال میں داخل ہوجائے جزعہ ہے اور پانچ سالہ بچہ جو چھٹے سال میں داخل ہوجائے ثنیہ۔
۳؎ اونٹ کا آٹھ سالہ بچہ جو نویں سال میں داخل ہوجائے بازل کہلاتا ہے،اس کی بعد اس کی عمر کا کوئی نام نہیں۔بازل بنا ہے بزل سے بمعنی کمال اورقوت،چونکہ اس عمر میں اونٹ کی کیلیں نکل آتی ہیں اور وہ اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے اس لیے اسی بازل کہتے ہیں اس کے بعد اسے بازل عام اور بازل عامین وغیرہ کہتے ہیں۔
۴؎ کلھا کی ضمیر تثنیہ کی طرف ہے یعنی یہ۳۴ ثنیہ کل حاملہ اونٹنیاں ہوں جن کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حقہ حاملہ نہیں ہوتی۔
۵؎ یعنی اگر کوئی شخص کسی کو خطاءً قتل کردے تو اس کی دیت قتل شبہ عمد سے ہلکی ہوگی کہ سو اونٹ تو واجب ہوں گے مگر تین کی بجائے چار حصہ ہوکر دیت کا ہلکا بھاری ہونا اونٹوں کی عمر کے لحاظ سے ہوتاہے۔
۶؎ اونٹ کے عمر کے لحاظ سے چھ نام ہیں ایک سالہ اونٹنی بنت مخاض،دو سالہ بنت لبون،تین سالہ حقہ،چار سالہ جزعہ،پانچ سالہ ثنیہ اور آٹھ سالہ بازل عام،پھر اس کے بعد کوئی نام نہیں بلکہ یوں کہتے ہیں بازل عام،بازل عامین اور بازل ثلث اعوام وغیرہ،یعنی قتل خطاء میں قاتل وارثوں پر سو اونٹ لازم ہوں گے جو مقتول کے وارثوں کو دیئے جائیں گے مگر ان کے چار حصہ ہوں گے پچیس ایک سالہ اونٹنیاں اورپچیس دو سالہ،پچیس تین سالہ،پچیس چار سالہ۔