Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
412 - 1040
حدیث نمبر412
روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو سے ۱؎ وہ ابوسلمہ سے ۲؎ وہ ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچے بچے کے متعلق ۳؎ غلام یا لونڈی ۴؎ یا گھوڑے یا خچر ۵؎ کا فیصلہ فرمایا۔(ابوداؤد) فرمایا یہ حدیث حماد ابن سلمہ اور خالد واسطی نے محمد ابن عمرو سے ۶؎ روایت کی اور گھوڑے کا ذکر نہ فرمایا ۷؎
شرح
۱؎ محمد ابن عمرو ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب،آپ تابعی ہیں،حضور جابر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہے ان سے احادیث روایت کیں۔

۲؎ آپ اپنی کنیت میں مشہور ہیں،عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے ہیں،زہری ہیں،قریشی ہیں،مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،تابعین میں سے ہیں،حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،عبداﷲ ابن عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ سے ملاقات ہے،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔

۳؎ یعنی اگرکوئی کسی حاملہ عورت کے پیٹ پر ایسی چوٹ مار دے جس سےاس کے پیٹ کا بچہ گر جائے۔

۴؎ لفظ غرہ کے لغوی معنے ہیں چمک دار چیز پھر ہر اعلیٰ چیز کو غرہ کہا جانے لگا اب غرہ سے مراد انسان ہوتا ہے کیونکہ وہ اشرف المخلوقات ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ" یہاں غرہ مبدل منہ ہے اور عبد او امۃ بدل۔

۵؎ امام نووی شارح مسلم نے اور مرقات شرح مشکوۃ نے اس جگہ فرمایا کہ حدیث امۃ پرختم ہوگئی۔لفظ فرس اور بغل کی زیادتی عیسیٰ ابن یونس راوی کیطرف سے ہے یہ زیادتی باطل محض ہے کیونکہ لفظ غرہ صرف انسان پر بولا جاتا ہے گھوڑے خچر وغیرہ کو غرہ نہیں کہتے۔

۶؎  حماد ابن سلمہ علماءبصرہ میں بڑے پائے کے عالم ہیں،حمید طویل کے بھانجہ ہیں،حضرت شعبہ امام مالک ابن مبارک اور وکیع کے استاذ حدیث ہیں، ۱۶۷ھ؁ میں وفات پائی اور خالد واسطی طحان حافظ حدیث بہت متقی پرہیزگار ہیں آپ نے تین باراپنے وزن کی چاندی خیرات کی۔(اشعۃ اللمعات)

۷؎ یہ زیادتی شاذ ہے اور یہ حدیث ضعیف۔(مرقات)
Flag Counter