۱؎ خواہ ہاتھ سے گلا گھونٹے یا پھانسی لگا کر مرجائے یا کسی سے اپنا گلا گھنٹوا لے یا اپنے کو دوسرے سے پھانسی لگوالے سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ پھانسی کے مجرم کا اپنے کو حاکم کے سامنے پھانسی کے لیے پیش کردینا اور اقرار قتل کرکے پھانسی پر چڑھ جانا اس میں داخل نہیں،بعض صحابہ کرام نے بارگاہِ اقدس میں زنا کا اقرار کرکے اپنے کو رجم کے لیے پیش فرمادیا اور ان کا یہ عمل بہترین توبہ میں شمار ہوا،بعض مردان خدا نے پھانسی کے وقت پھانسی کے پھندے کو چوما ہے کہ یہ پھندا توبہ کی قبولیت کا ذریعہ ہے،عشق کے کام نیارے۔
۲؎ خیال رہے کہ جو شخص شرعًا قتل کا مستحق ہو مگر مروجہ قانون اسے قتل نہیں کرتا تو وہ شخص خود اپنے کو قتل ہرگز نہ کرے اگر کرے گا تو اس سزا کا مستحق ہوگا کیونکہ سزائے قتل میں حاکم کا فیصلہ ضروری ہے جیسے زنا کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے مگر موجودہ قانون یہ سزا جاری نہیں کرتا تو کوئی زانی اپنے کو قتل نہ کرے،زبانی توبہ صدقہ وغیرہ کرے،اگر قتل کرلے گا تو خودکشی کی حرام موت مرے گا کہ یہ سزا نہیں خودکشی ہے۔