۱؎ غالب یہ ہے کہ نذر غیر مشروط تھی اور مالی تھی۔چنانچہ دارقطنی میں یوں ہے کہ حضرت سعد سے حضور نے فرمایا کہ اپنی ماں کی نذر پوری کروانے کی طرف سے لوگوں کو پانی پلادو۔معلوم ہوا کہ کنواں کھدوانے کی نذرتھی۔خیال رہے کہ میت کی بدنی نذر جیسے روزہ،نماز وارث ادا نہیں کرسکتا۔مالی نذر اگر میت نے مال چھوڑا ہے اور اس نذر کے پورا کرنے کی وصیت کی ہے تو وارث پر پورا کرنا واجب ہے،اگر وصیت نہیں کی یا مال نہیں چھوڑا ہے تو وارث پر یہ نذربھی پوری کرنا واجب نہیں،ہاں بہتر ہے کہ پوری کردے،یہاں دونوں احتمال ہیں،اگر ام سعد نے مال چھوڑا تھا اور وصیت بھی کی تھی تو یہ امر وجوب کے لیے ہے اگر ان دونوں میں سے ایک بات بھی نہ تھی تو یہ امراستحبابی ہے۔