Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
348 - 1040
حدیث نمبر348
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ سعد ابن عبادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں پرتھی ۱؎ پھر وہ نذرپوری کرنے سے پہلے وفات پاگئیں تو انہیں فتویٰ دیا کہ ان کی طرف سے ادا کریں۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غالب یہ ہے کہ نذر غیر مشروط تھی اور مالی تھی۔چنانچہ دارقطنی میں یوں ہے کہ حضرت سعد سے حضور نے فرمایا کہ اپنی ماں کی نذر پوری کروانے کی طرف سے لوگوں کو پانی پلادو۔معلوم ہوا کہ کنواں کھدوانے کی نذرتھی۔خیال رہے کہ میت کی بدنی نذر جیسے روزہ،نماز وارث ادا نہیں کرسکتا۔مالی نذر اگر میت نے مال چھوڑا ہے اور اس نذر کے پورا کرنے کی وصیت کی ہے تو وارث پر پورا کرنا واجب ہے،اگر وصیت نہیں کی یا مال نہیں چھوڑا ہے تو وارث پر یہ نذربھی پوری کرنا واجب نہیں،ہاں بہتر ہے کہ پوری کردے،یہاں دونوں احتمال ہیں،اگر ام سعد نے مال چھوڑا تھا اور وصیت بھی کی تھی تو یہ امر وجوب کے لیے ہے اگر ان دونوں میں سے ایک بات بھی نہ تھی تو یہ امراستحبابی ہے۔
Flag Counter