| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا دیکھا ۱؎ حضور نے اس کے متعلق پوچھا لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے ۲؎ اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے نہ بیٹھے گا نہ سایہ لے گا نہ کلام کرے گا۳؎ اور روزے رکھے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ کلام کرے سایہ لے لے اور بیٹھ جائے ۴؎ اور اپنا روزہ پورا کرلے۔ (بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کھڑے ہوکر سن رہے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہوکر سننا بیٹھ کر سنت اسی لیے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔ ۲؎ یہ حضرت بنی عامر لوی کی اولاد سے تھے،قریش کے ایک خاندان سے،ان کانام ابو اسرائیل ہی تھا۔ ۳؎ یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اورکسی انسان سے کلام نہ کرے گا،یہ مطلب نہیں کہ التحیات میں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا،عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں۔ ۴؎ یعنی خاموش رہنا سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قرأۃ فرض ہے اور التحیات میں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی،اس طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے یہ نذر توڑ دے مگر روزہ چونکہ عبادت ہے اس لیے اسے پورا کرے۔خیال رہے کہ ابو اسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے ہمیشہ خاموش رہنے سایہ میں نہ بیٹھنے روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکو ئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سواء تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دن روزے نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے،نذر کا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے،امام شافعی کے ہاں ان دونوں کی نذر درست ہی نہیں۔