۱؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی کی عبادت تو ویسے بھی کرنی چاہیےاور جب نذر مان لی تو بدرجہ اولیٰ کرنی چاہیے۔
۲؎ خیال رہے کہ جو کام بذات خود گناہ ہو اس کی نذر درست ہی نہیں جیسے شراب پینے،جوا کھیلنے،کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے کی نذر کہ ایسی نذریں باطل ہیں ان کا پوراکرنا حرام مگر ان پر کفارہ واجب ہے کہ یہ کام ہرگز نہ کرے اور کفارہ ادا کرے،اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے کہ اس نے رب تعالٰی کے نام کی بے حرمتی کی مگر جو کام کسی عارضہ کی وجہ سے ممنوع ہوں ان کی نذر درست ہے یا ان کی قضا کرے یا کفارہ دے جیسے عید کے دن کے روزے یا طلوع آفتاب کے وقت نفل پڑھنے کی منت کہ یہ منت درست ہے،یہ ہی مذہب احناف ہے۔