۱؎ یمین سے مراد وہ واقعہ ہے جس پر قسم کھائی جائے ورنہ قسم پر قسم نہیں ہوتی،حلف قسم ہے وہ یمین پر کیسے واقعہ ہوگا۔
۲؎ یعنی قسم سے متصل کہہ دے ان شاءاﷲ اسی لیے ف ارشاد ہوئی۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر وعدے یا قسم سے متصل ان شاءاﷲ کہہ دیا جائے تو اس کے خلاف کرنے پر نہ گناہ ہے نہ کفارہ،موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے فرمایا"سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللہُ صَابِرًا" مگر بعد میں آپ صبر نہ کرسکے تو یہ وعدہ خلافی نہ ہوا،اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ ان شاءاﷲ متصل کہہ دینے سے قسم ختم ہوجاتی ہے،طلاق،عتاق،نکاح کا یہ ہی حال ہے کہ اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے ان شاءاﷲ یا میں نے نکاح قبول کیا ان شاءاﷲ، یا اے غلام تو آزاد ہے ان شاءاﷲ ،کچھ نہ ہوا نہ طلاق نہ نکاح نہ آزادی۔
۳؎ لیکن ایسا موقوف مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ قیاسی مسئلہ نہیں۔