Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
329 - 1040
حدیث نمبر329
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ بات کہ اڑا رہے تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اپنے گھر والوں کے متعلق ۱؎ زیادہ گناہ ہے اﷲ کے نزدیک اس سے کہ اس کا کفارہ ادا کردے جو اﷲ نے اس پر فرض کیا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یلج ی کے فتح لام کے کسرہ اور جیم کے شد سے لجاءٌ ولجاجۃ کا مضارع ضرب یضرب سے لجاجہ کے معنے ہیں اڑ جانا،مصر ہوجانا،قائم رہنا یعنی جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کا حق فوت کرنے پر قسم کھالے مثلًا یہ کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں گا یا بیوی سے ایک دو ماہ صحبت نہ کروں گا۔

۲؎ یعنی ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے اس پر واجب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حقوق اد اکرے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمٰنِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصْلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ"۔خیال رہے کہ یہاں اٰثم تفضیل مقابلہ کے لیے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ مگر پوری کرنا زیادہ گناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بہت بڑا گناہ ہے پوری نہ کرنا ثواب کہ اگرچہ رب تعالٰی کے نام کی بے ادبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کا موجب ہے۔
Flag Counter