۱؎ یعنی اگر بھول کر لات و عزیٰ کی قسم کھالے تو کفارہ کے لیے کلمہ طیبہ پڑھ لے کہ نیکیاں گناہ کو مٹا دیتی ہے اور اگر دیدہ دانستہ بتوں کی تعظیم کرتے ہوئے ان کی قسم کھائی ہے تو کافر ہوگیا،دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو۔لات و عزیٰ مکہ والوں کے دو مشہور بت تھے جو کعبہ معظمہ میں رکھے ہوئے تھے اب جو گنگا جمنا یا رام لچھن کی قسم کھائے اس کا حکم بھی یہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس جیسی قسم میں کفارہ نہیں صرف یہ ہی حکم ہے جو یہاں مذکور ہوا۔
۲؎ یعنی جو ا کھیلنا تو درکنار اگر کسی کو جوا کھیلنے کی دعوت بھی دے تو وہ جوئے کا مال جس سے جوا کھیلنا چاہتا ہے وہ یا دوسرا مال صدقہ کردے تاکہ اس ارادہ کا یہ کفارہ ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ ارادہ گناہ بھی گناہ ہے،یہ ہی مذہب جمہور ہے۔