Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
318 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر318
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابو عمر انصاری سے ۱؎ کہ ان کی ماں نے آزاد کرنا چاہا پھر صبح تک دیر لگائی وہ فوت ہوگئیں۲؎ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے قاسم ابن محمد سے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو کیا انہیں نفع دے گا۳؎ تو قاسم بولے کہ سعد ابن عبادہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئےعرض کیا کہ میری ماں وفات پاچکیں کیا انہیں نفع دے گا یہ کہ میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۴؎(مالک)
شرح
۱؎ عبدالرحمن تابعی ہیں،ثقہ ہیں،قاضی مدینہ منورہ ہیں،ان کی احادیث مضطرب ہوتی ہیں،ان کے والد کا نام عمرو ابن حصین ہے یا ثعلبہ ابن عمرو ابن حصین وہ صحابی ہیں۔(اشعہ و مرقات)ان کی والدہ کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر وہ صحابیہ نہیں تابعیہ ہیں۔

۲؎ یعنی شام کے وقت لونڈی یا غلام آزاد کرنا چاہا مگر کہا کہ صبح آزاد کروں گی  رات میں اچانک فوت ہوگئیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرے دیر نہ لگائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"۔

۳؎ یعنی میں نے حضرت قاسم ابن محمد ابن ابوبکر صدیق سے مسئلہ پوچھا کہ اگر اب ان کی طرف سے میں غلام آزاد کردوں تو کیا انہیں ثواب ملے گا۔

۴؎ حضرت قاسم نے مسئلہ نہ بتایا بلکہ مسئلہ کی دلیل بتادی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے صدقہ و خیرات و نفل نماز کا ثواب کسی کو بخشنا جائز ہے یوں ہی غلام لونڈی آزاد کرکے اس کا ثواب بخش دینا بھی جائز ہے اور یہ ثواب میت کو ضرور پہنچتا ہے۔
Flag Counter