Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
316 - 1040
حدیث نمبر316
روایت ہے عمرو ابن شعیب سے،وہ اپنے والد سے،وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو سو اوقیہ چاندی پر مکاتب کیا ۱؎ تو اس نے سب ادا کردیا،سوائے دس اوقیہ کے یا فرمایا سوائے دس دیناروں کے ۲؎ پھر وہ عاجز ہوگیا تو وہ غلام ہی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ ا س طرح کہ اس سے کہہ دیا تو سو اوقیہ چاندی ادا کردے تو تو آزاد ہے،ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے سو اوقیہ چالیس سو یعنی چار ہزار درہم کا ہوا،ایک درہم ساڑھے چار آنہ کا۔

۲؎ یا تو یہ شک صحابی کو ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دس اوقیہ فرمایا یا دس۱۰ دینار یا نیچے کے راوی کو شک ہے کہ میرے استاد حدیث نے کیا فرمایا۔ خیال رہے کہ ایک دینار دس درہم یعنی پونے تین روپے کا ہوتا تھا اب تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہے کہ سونا بہت گراں ہے۔

۳؎ یا تو خود غلام ہی کہہ دے کہ اب میں بقیہ روپیہ ادا نہیں کرسکتا یا مکاتبت کی مدت گزر جائے،یہ دونوں صورتیں عجز کی ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس صورت میں ادا کیا ہوا روپیہ مولا کا ہوگا اور یہ مکاتب پہلے کی طرح مکمل غلام ہوجائے گا۔معلوم ہوا کہ کل بدل کتابت کی ادا سے عاجزہونا یا بعض سے عاجز ہونا حکم میں یکساں ہے کہ ان صورتوں میں یہ پورا غلام بن جائے گا۔
Flag Counter