Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
315 - 1040
حدیث نمبر315
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے کسی کے مکاتب کے پاس جب پورا کرنے کا مال ہوتو وہ اس سے پردہ کرے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی اگر بی بی نے اپنے غلام کو مکاتب کیا غلام کے پاس کتابت کا مال جمع ہوگیا مگر ابھی اس نے ادانہیں کیا ہے تو اس بی بی کو چاہیے کہ اس سے پردہ کرنے لگے کیونکہ اب وہ آزاد ہوجانے پر قادر ہوچکا ہے اس کی آزادی قریب ہے،انہی ام سلمہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے غلام نبہان سے پوچھا کہ تیری کتابت کے مال سے کس قدر باقی ہے وہ بولے دو ہزار درہم فرمایا کیا وہ تیرے پاس ہیں؟ بولے ہاں،فرمایا ادا کردے اور جا تجھے سلام ہے،یہ کہہ کر آپ نے پردہ ڈال لیا وہ رونے لگے کہ میں آپ کے دیدار سے محروم ہوگیا میں تو یہ رقم کبھی ادا نہ کروں گا،آپ بولیں بیٹے اب تم مجھے کبھی نہ دیکھ سکو گے ہم سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہی فرمایا ہے،یہ حکم یا تو ازواج پاک کے لیے خصوصی تھا یا دوسری عورتوں کو بھی استحبابی ہے ورنہ جب تک کہ مکاتب پائی پائی ادا نہ کردے تب تک وہ غلام ہے اس سے مولاۃ کا پردہ واجب نہیں،یا یہ مطلب ہے کہ پردہ کرنے کی تیاری کرے۔(اشعہ و مرقات)خیال رہے غلام اور اس مالکہ بی بی مولاۃ میں پردہ نہیں جب غلام آزاد ہوجائے تو اس سے مولاۃ کا پردہ واجب ہے اورجب آزادی کے قریب ہوجائے تو اس حدیث کی رو سے پردہ بہتر۔
Flag Counter