۱؎ یا تو نسخ سے پہلے یا بعض صحابہ کو ممانعت کی خبر نہ ہوئی اور بے خبری میں وہ فروخت کرتے رہے زمانہ صدیقی میں ایک دو حضرات نے یہ بیع کی،حضرت جابر سمجھے کہ اس بیع کا عام رواج تھا،یہاں یہ ذکر نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بیع کی خبر ہوئی اور آپ نے منع نہ فرمایا جب تک یہ مذکور نہ ہو تب تک حجت نہیں۔
۲؎ حضرت ابوبکر صدیق کا زمانہ خلافت بہت تھوڑا ہے اور بالکل جہادوں میں گھرا ہوا اس لیے یا تو آپ کو اس بیع کی نسخ کی خبر نہ پہنچی یا ان لوگوں کی فروخت کی خبر نہ ہوئی،زمانہ فاروقی بفضلہ تعالٰی دس سال ہے اور اس زمانہ شریف میں شرعی احکام کی بہت چھان بین ہوگئی اس لیے آپ کو ممانعت کی خبر پہنچی اور ان حضرات کی اس بیع کی بھی اس لیے اس کی ممانعت کا اعلان فرمادیا اور کسی صحابی نے اختلاف نہ فرمایا،یہ ہوا اجماع صحابہ اگر یہ حکم مشکوک ہوتا تو صحابہ میں ضرور اختلاف واقع ہوتا۔
۳؎ حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح علیٰ شرط مسلم ہے،یہ حدیث نسائی وغیرہ نے مختلف الفاظ سے مختلف اسنادوں سے روایت کی مگر وہ تمام ضعیف ہیں،ام ولد کی بیع کی ممانعت کی روایات بہت ہیں اور صحیح ہیں جو مرقات نے جمع فرمادیں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن شریف سے جناب ابراہیم پیدا ہوئے تو حضور عالی نے فرمایا کہ انہیں ان کے اس بچہ نے آزاد کردیا چنانچہ حضور کی وفات کے بعد جناب ماریہ آزاد ہوئیں دوسرے ترکات کی طرح صدقہ نہ بنیں۔