Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
307 - 1040
حدیث نمبر307
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا غلام مدبر کیا ۱؎ اور اس کے پاس اس کے سوا اور مال نہ تھا ۲؎ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا مجھ سے اسے کون خریدتا ہے۳؎ چنانچہ اسے نعیم ابن نحام نے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا ۴؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اسے نعیم ابن عبداﷲ عدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض خریدا ۵؎ وہ یہ درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے آپ نے وہ درہم اسے دیئے ۶؎ پھر فرمایا کہ اپنے نفس سے شروع کروکہ اس پر خرچ کرو ۷؎ پھر اگر کچھ بچ رہے تو اپنے گھر والوں کو دو پھر اگر گھر والوں سے کچھ بچ رہے تو اپنے قرابت والوں کو دو۸؎ پھر اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی کچھ بچ رہے تو یوں دو اور یوں دو،حضور انور اپنے آگے دائیں بائیں اشارہ فرماتے جاتے تھے ۹؎
شرح
۱؎ یا اس طرح کہ کہا کہ اگر میں فلاں بیماری میں مرجاؤں تو تو آزاد ہے یہ تدبیر مقید ہے اور اس کو مدبر مقید کہتے ہیں یا اس طرح کہ کہا جب میں مرجاؤں تو تو آزاد ہے اسے تدبیر مطلق کہتے ہیں اور ایسے غلام کو مدبر مطلق کہا جاتا ہے،یہ فرق خیال میں رہے۔

۲؎ یعنی ان انصاری کا کل مال یہ غلام ہی تھا اور کوئی مال نہ تھا لہذا یہ غلام تہائی مال سے نہیں نکل سکتا اور وصیت تہائی مال میں ہی جاری ہوتی ہے۔

۳؎ یہ نیلام نہ تھا ورنہ دوسرے بھی بولی دیتے بلکہ ان انصاری کی تدبیر باطل فرمادینے کا اعلان تھا تاکہ لوگوں کو اطلاع ہوجائے۔

۴؎ ان خریدار کا نام نعیم ابن عبداﷲ ابن اسید ہے،قبیلہ بنی عدی سے ہیں جس قبیلہ سے حضرت عمر ہیں۔نحام بنا ہے نحمہ سے بمعنی کھانسی یا کھنکار،فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہم نے جنت میں جاتے وقت اپنے آگے کسی کی کھانسی سنی،حضرت جبریل نے عرض کیا کہ یہ عبداﷲ عدوی کی کھنکار ہے اس دن سے انکا لقب نحام پڑ گیا،بمعنی کھنکار والے یا کھانسی والے،حق یہ ہی ہے کہ یہ لقب نحام عبداﷲ کا ہے نہ کہ نعیم کا۔

۵؎ اس حدیث کی بنا پر بعض اماموں نے فرمایا کہ مدبر کرنے والے مولیٰ کی زندگی میں مدبر کو فروخت کرسکتے ہیں کہ حضور نے ان انصاری کی زندگی میں ان کا مدبر فروخت کیا۔امام شافعی کے ہاں مدبر کی بیع مطلقًا جائز ہے مولیٰ کی زندگی میں بھی بعد موت بھی۔ہمارے ہاں مدبر کی بیع مطلقًا ممنوع ہے مولیٰ کی زندگی میں بھی اس کی موت کے بعد بھی۔چنانچہ دار قطنی وغیرہ نے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے مرفوعًا و موقوفًا روایت کی کہ مدبر نہ فروخت کیا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور وہ تہائی مال سے آزاد ہوگا۔اس حدیث کے متعلق امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجمل ہے جس میں اس بیع کی وجہ بیان نہ ہوئی،یا تو یہ انصاری مقروض تھے یہ غلام ان کے قرض میں گھرا تھا لہذا حضور نے یہ تدبیر جائز نہ رکھی یا انہوں نے تدبیر مقید کی تھی کہ اگر میں اتنے عرصہ یا فلاں بیماری میں مرجاؤں تو تو آزاد ہے جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ حضور نے انہیں یہ قیمت دے کر یہ بھی فرمایا کہ اس سے اپنا قرض ادا کرو یا حضور نے اس مدبر کی خدمت فروخت کی یعنی اسے کرایہ پر دیا جیسا کہ دار قطنی بروایت عبدالغفار عن ابی جعفر روایت کی۔چنانچہ ابو جعفر یعنی امام محمد باقر ابن امام علی زین العابدین نے اس حدیث جابر کی بنا پر مدبر کی خدمات کی بیع جائز قرار دی یا یہ حدیث اس زمانہ کی ہے جب قرض وغیرہ میں آزاد کی بیع بھی درست تھی تو یہ شخص تو مدبر تھا یعنی آزادی کا مستحق تھا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا،بہرحال مذہب حنفی بہت قوی ہے۔حدیث جابر میں بہت سے احتمالات ہیں،ان احتمالات کے ہوتے ہوئے اس سے استدلال درست نہیں،امام شافعی بھی مانتے ہیں کہ ام ولد کی بیع درست نہیں حالانکہ ام ولد بھی گویا مدبرہ ہی ہوتی ہے کہ مولیٰ کے مرے بعد آزاد ہوتی ہے تو مدبر کی بیع کیونکر جائز ہوسکتی ہے۔(ازمرقات وغیرہ)

۶؎ یعنی نعیم سے آٹھ سو درہم وصول فرما کر ان مدبر فرمانے والے انصاری کو عطا فرمائے اور ان سے وہ کلام فرمایا جو آگے آرہا ہے۔

 ۷؎ حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ اپنے قرض سے شروع کرو کہ پہلے اس رقم سے قرض ادا کرو پھر اپنے نفس سے شروع کرو کہ اپنے پر خرچ کرو۔

 ۸؎ اہل سے مراد بیوی بچے وغیرہ ہیں جن کا خرچہ ان کے ذمہ قرض تھا اور اہل قرابت سے مراد باقی دوسرے عزیز رشتہ دار ہیں جن کا خرچہ دینا مستحب۔

۹؎ اگر قرابتداروں کو خرچہ دے کر بھی بچ رہے یا ان میں کوئی غریب ہو ہی نہیں تو دوسرے کار خیر میں خرچ کرو،فقراء کو خیرات،مسجد،سبیل،طلباء پر خرچ۔خیال رہے کہ مدبر مقید مولیٰ کی زندگی میں تو مدبر نہیں ہوتا لیکن اگر مولیٰ اس ہی شرط پر مرے جس پر مدبر کیا تھا تو اب وہ مدبر آزاد ہوجائے گا گویا یہ تدبیر بالشرط ہے مثلًا کہا تھا کہ اگر میں اس سال میں یا اس مرض میں مرجاؤں تو تو آزاد ہے تو مولیٰ کے جیتے جی وہ مدبر نہیں لیکن اگر وہ اسی سال یا اسی مرض میں مرگیا تو اب وہ مدبر آزاد ہے کہ شرط آزاد پائی گئی۔
Flag Counter