Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
303 - 1040
باب اعتاق العبد المشترک و شری القریب و العتق فی المرض

مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ یعنی ایک غلام چند شخصوں کا مشترک ہو ان مالکوں میں سے ایک آزاد کردے تو بقیہ مالک کیا کریں،اس میں اختلاف ہے عتق تقسیم ہوسکتا ہے یا نہیں اس طرح کہ غلام آدھا آزاد ہوجائے اور آدھا غلام رہے،امام ابوحنیفہ کے ہاں ہوسکتا ہے،صاحبین کے ہاں نہیں رضی اللہ عنہم اس پر بہت سے شرعی مسائل متفرع ہوتے ہیں۔

۲؎   کہ کون قریبی عزیز اپنی ملک میں آنے سے آزاد ہوتا ہے اور کون عزیز آزاد نہیں ہوتا۔

۳؎ یعنی بیماری موت میں آزاد کرنے اور مدبر کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر303
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردے تو اگر اس کے پاس مال ہوجو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے ۱؎ تو اس پر غلام کی قیمت لگائی جائے انصاف کی پھر بقیہ شریکوں کو ان کے حصے دے دیئے جائیں اور غلام اس پر ہی آزادہوگا ۲؎ وگرنہ اس غلام میں سے جتنا ہوگیا وہ ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  شرك شین کے کسرہ ر کے سکون سے بمعنی حصہ۔(نہایہ)یعنی اگر چند شخص ایک غلام کے مالک تھے اور غلام ان سب میں مشترک تھا کہ ایک مالک نے اپنا حصہ آزاد کردیا  تو اگر اس آزاد کرنے والے کے بعد کھانے پینے اور لباس اور رہنے کے مکان و خدمت کے غلام غرض ضروریات سے بچا ہوا اتنا مال ہو جو باقی حصہ داروں کے حصوں کی قیمت کے برابر ہو لہذا اس آزاد کرنے والے کے مکان،جائیداد،کپڑے فروخت کراکر ان شرکاء کو نہ دلوایا جائے گا یہ قیود بہت خیال میں رہیں۔(مرقات)

۲؎ یعنی آزاد کرنے والا اگر اس قدر مال کا مالک ہے جو اوپر مذکور ہوا تو باقی مالکوں کے حصوں کی انصاف والی قیمت اس سے دلوائی جاوے گی اور غلام پورا آزاد ہوگا اور یہ اکیلا ہی آزاد کرنے والا مانا جائے گا اس کی ولاء ساری کی ساری اسی معتق کی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس صورت میں اس ایک مالک کے آزاد کرتے ہی سارا غلام آزاد ہوجائے گا،ان بقیہ مالکوں کو قیمت دینے پر آزادی موقوف نہ ہوگی، نیز یہ حکم ہر غلام و معتق کا ہے خواہ مؤمن ہوں یا کافر اور اس آزادی سے راضی ہوں یا ناراض،یہ ہی مذہب ہے صاحبین کا،اسی کو امام طحاوی وغیرہ نے اختیار فرمایا۔

۳؎ یعنی اگر وہ آزاد کرنے والا مالک تنگدست ہے کہ اس کے پاس مذکورہ مال نہیں ہے تو اتنا حصہ غلام کا آزاد ہوگیا، باقی حصہ غلام ہی ہے،باقی مالکوں کو حق ہے کہ یا غلام سے محنت و مشقت کرا کر اس کی بقیہ قیمت وصول کر کے آزاد کردیں یا غلام ہی رہنے دیں، وہ بھی بخوشی  بغیر عوض آزاد کردیں یہ مذہب ہے امام شافعی کا اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔ غرضکہ  ان کے ہاں غلام کی آزادی کے حصے ہوسکتے ہیں کہ اس غلام کا بعض حصہ آزاد ہے بعض غلام۔ ہمارے امام اعظم کے ہاں اگرچہ آزادی منقسم ہو سکتی ہے مگر منقسم رہ نہیں سکتی لہذا  امام اعظم کے ہاں اگر آزاد کرنے والا فقیر ہے تو اس وقت تو غلام کا یہ ہی حصہ دار ہوگا  مگر باقی مالکوں کو حق ہوگاکہ یا تو وہ بھی آزاد کردیں یا غلام سے مشقت کراکر اپنےحصوں کی قیمت وصول کرلیں اور غلام یہ قیمت دے کر آزاد ہوجائے،بہرحال تمام اماموں کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آزاد کرنے والا غنی ہے تو سارا غلام آزاد ہوجائے گا آزادی منقسم نہ ہوگی،اس پر بھی متفق ہیں کہ اگر آزاد کرنے والا فقیر ہے تو اتنا ہی حصہ آزاد ہوگا جتنا آزاد کیا گیا،اختلاف اس میں ہے کہ باقی حصہ غلام رہے گا یا نہیں،امام شافعی کے ہاں رہے گا ہمارے ہاں نہیں صاحبین تقسیم عتق کے قائل نہیں ان کے ہاں بہرحال پورا غلام آزاد ہوگا،معتق غنی ہو یا فقیر،ہاں فقیری کی صورت میں غلام آزاد ہوتو چکا مگر محنت کرکے اپنی بقیہ قیمت باقی مالکوں کودے دے،سب کے دلائل کتب فقہ میں اور مرقات میں اسی جگہ دیکھئے۔
Flag Counter