۱؎ یعنی سفارش کرکے کسی کو قرض،غلامیت،قید،بے جا حبس سے چھوڑا دینا یا مکاتب کی سفارش کرکے اس کا بدل کتابت کم کرادینا بہترین صدقہ ہے۔خیال ہے کہ مشکوۃ شریف کے بعض نسخو ں میں التی ہے تب تو عبارت بالکل واضح ہے اور بعض نسخوں میں التی نہیں تب یہاں تفك کا جملہ شفاعۃ کی صفت ہے یا اس کا حال کیونکہ اس صورت میں الشفاعۃ نکرہ ہے اور نکرہ کی صفت جملہ ہوسکتا ہے،شاعر کہتا ہے۔
ولقدا مر علی الیم لیبنی
خلاصہ یہ ہے کہ سفارش کرکے پھنسے آدمی کو چھوڑا دینا بہت افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنْہَا"۔