| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن ۱؎ تین چیزوں پر صلح فرمائی اس پر مشرکین میں سے جو آپ کے پاس آئے حضور اسے لوٹا دیں کفار کی طرف ۲؎ اور جو مسلمان ان کے پاس چلا جائے وہ اسے واپس نہ کریں ۳؎ اور اس پر کہ سال آئندہ مکہ میں داخل ہوں اور وہاں تین دن قیام فرمائیں ۴؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو وہاں سے روانہ ہوئے ۵؎ تو حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے ہولی چچا جان چچان جان کہتی ہوئی ۶؎ تو اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھالیا اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۷؎ اس بچی میں جناب علی،زید،جعفرجھگڑے ۸؎ حضرت علی نے فرمایا کہ اسے میں نے لیا ہے وہ میری چچا زاد ہے ۹؎ اور حضرت جعفر بولے میری چچا زاد ہے اس کی خالہ میرے پاس ہے ۱۰؎ حضرت زید بولے میری بھتیجی ہے ۱۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے لیے کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہے ۱۲؎ اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۱۳؎ اور جناب جعفر سے فرمایا تم میری ہم صورت ہم سیرت ہو۱۴؎ اور حضرت زید سے فرمایا تم ہمارے بھائی ہماے پیارے ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حدیبیہ مکہ معظمہ کے قریب ایک کنوئیں کا نام ہے،اس کنویں کی وجہ سے اس جنگل کا نام بھی حدیبیہ ہوگیا ہے یہ حدّہ منزل کے قریب ہے جسے اب بیر شمیس کہتے ہیں یہ جگہ حرم شریف کی انتہاء پر واقع ہے،حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے کچھ حصہ حرم سے خارج ،حضور صلی اللہ علیہ و سلم عمرہ کی نیت سے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لائے جب یہاں پہنچے تو کفار نے روک دیا آخر کار ان باتوں پر مسلمانوں اور کفار میں صلح ہوئی جس کا ذکر یہاں ہے،اس کا واقعہ ان شاءاﷲ کتاب اطہار میں آئے گا۔ ۲؎ یعنی اگر مشرکین مکہ میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ حضور کے پاس پہنچ جائے اور مشرکین اس کا مطالبہ کریں تو سرکار اسے روکیں نہیں بلکہ ان مشرکین کے پاس بھیج دیں۔ ۳؎ یعنی جو مسلمان مرتد ہو کر کفار مکہ کے پاس پہنچ جائے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے واپس بلانے کا حق نہ رکھیں،بظاہر یہ شرط بہت سخت معلوم ہوتی تھی مگر اس شرط نے کفار مکہ کی کمر توڑ دی اور آخر کار فتح مکہ ہوگئی،یہ ہے حضور کی بے مثال سیاست۔ ۴؎ یعنی اس سال بغیر عمرہ کیے مدینہ منورہ واپس ہوجائیں سال آئندہ عمرہ کے لیے مکہ معظمہ آئیں اوریہاں تین دن قیام کرکے واپس ہوجائیں۔ ۵؎ یعنی عمرہ کرکے تین دن مکہ معظمہ میں قیام فرما کر مدینہ منورہ واپس ہونے لگے۔ ۶؎ اس بچی کا نام عمارہ تھا اسی کی وجہ سے جناب حمزہ کی کنیت ابو عمارہ تھی اگرچہ حضرت حمزہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا تھے،اس رشتہ سے یہ بچی حضور کی چچا زاد بہن تھی مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حمزہ زید ابن حارثہ تینوں نے بی بی ثویبہ کا دودھ پیا تھا اسی لیے جناب حمزہ کے رضاعی بھائی تھے، نیز اہل عرب بزرگوں کو چچا کہہ کر پکارتے ہیں ان وجوہ سے اس بچی نے حضور کو چچا جان چچا جان کہہ کر پکارا،مطلب یہ تھا کہ مجھے کہاں چھوڑے جاتے ہو میں بھی آپ کے ساتھ مدینہ چلوں گی۔ ۷؎ اور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آئے یہ مدینہ لے آنا اس شرط کے خلاف نہ تھا کہ جو گزشتہ سال صلح کے وقت لکھی گئی تھی کیونکہ حضور نے اس بچی کو بحق اسلام نہ لیا بلکہ بحق قرابت،نیز وہ شرط مردوں کے لیے تھی کہ جو مرد مسلمان ہو کر مدینہ آجائے اسے واپس کیا جائے،یہ بچی تھی اسی لیے اہل مکہ نے نہ تو اس بچی کے لیے جانے پر اعتراض کیا اور نہ اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ۸؎ یہ بچی باپ کے سایہ سے محروم ہوچکی تھی کہ جناب حمزہ آج سے پانچ سال پہلے غزوہ احد میں شہید ہوچکے تھے اس کی والدہ یا فوت ہوچکی تھیں یا مکہ معظمہ رہ گئی تھیں اس لیے اب اس کی پرورش کا سوال پیدا ہوا چنانچہ یہ مناظرہ پیش آیا کہ ان بزرگوں میں سے ہر صاحب چاہتے تھے کہ اس بچی کی پرورش کی سعادت ہم کو میسر ہو جیسے حضرت مریم کی پرورش پر بنی اسرائیل میں جھگڑا ہوا تھا۔ ۹؎ جناب علی نے اپنے استحقاق کے دو دلائل پیش فرمائے: ایک یہ کہ یہ بچی گویا لقیطہ ہے اٹھائی ہوئی ہے اور لقیطہ کی پرورش پانے اٹھانے والا کرتا ہے،دوسرے جناب حمزہ میرے چچا ہیں یہ میری چچازاد بہن ہے۔ ۱۰؎ حضرت جعفر جو جناب علی کے بڑے بھائی ہیں آپ سے دس سال عمر میں زیادہ ہیں انہوں نے اپنے استحقاق کی دو وجہیں بیان فرمائیں:ایک یہ کہ میرے چچا کی بیٹی ہے کہ حمزہ ابن عبدالمطلب میرے چچا ہیں یعنی میرے والد ابو طالب کے بھائی۔ دوسرے یہ کہ اس بچی کی خالہ اسماء بنت عمیس میری بیوی ہے اور خالہ کو اپنی بھانجی کی پرورش کا حق ہوتا ہے میں بھی حق دار ہوں میری بیوی بھی۔(اشعہ) ۱۱؎ حضرت زید ابن حارثہ جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بظاہر آزاد کردہ تھے یہ حضرت حمزہ کے رضاعی بھائی بھی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب حمزہ کو عقد مواخاۃ کے موقعہ پر حضرت زید کا بھائی بنایا تھا اس ڈبل بھائی ہونے کی وجہ سے یہ مدعی استحقاق پرورش تھے(مرقات و اشعہ) ۱۲؎ یعنی حضرت جعفر ابن ابی طالب کو حق پرورش دیا کیونکہ بچی کی خالہ ان کی زوجہ تھیں وہ انہیں پالیں گی،اسی بنا پر فقہاء فرماتے ہیں کہ ماں،نانی کے بعد خالہ کو بچی کی پرورش کا حق ہے اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے، پھر سب کی تسلی فرماتے ہوئے فرمایا۔ ۱۳؎ یعنی تم میں مجھ میں انتہائی اتحاد و یگانگت ہے،تم اس بچی کے نہ ملنے پر ملول ہو تم کو میرا قرب حقیقی تو حاصل ہے میں نے تمہارے گھر میں پرورش پائی تم نے میرے گھر اور میری گود میں تربیت پائی میں خاتم الانبیاء تم خاتم الخلفاء میں مصدر نبوت تم منبع ولایت گویا ہم تم ایک ہی ہیں۔سبحان اﷲ! یہ کلمات حضرت علی کی انتہائی عظمت بتارہے ہیں۔ ۱۴؎ یعنی اے جعفر تم کو اس بچی کے ملنے پر خوشی ہوئی،بڑی خوشی یہ ہے اﷲ تعالٰی نے تمہیں بڑی نعمت بخشی ہے کہ تم صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہو میری ہم شکل و مناسبت اﷲ کی بڑی نعمت ہے۔ ۱۵؎ یعنی تم بھی اس بچی کے نہ ملنے پر رنجیدہ نہ ہو، تم ہمارے اسلامی بھائی ہو ہمارے پیارے ہو۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کسی مسلمان کو اپنا بھائی فرمادیں یہ ان کا کرم ہے مگر کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ اپنے کو حضور کا بھائی کہے یا بھائی کہہ کر پکارے۔اس حدیث کی بنا پر امام مالک نے فرمایا کہ بچہ کی خالہ اس کی نانی سے زیادہ پرورش کی حق دار ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خالہ کو ماں قرار دیا۔ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا خالہ ماں ہے مگریہ استدالال کچھ کمزور سا ہے،خالہ کو ماں سے تشبیہ دینا حق پرورش کے لیے ہے نانی پر ترجیح اس سے ثابت نہیں ہوتی،نانی تو احکام شرعیہ میں بھی ماں کی طرح ہے اسی لیے وہ ماں کی سی میراث یعنی چھٹا حصہ پاتی ہے۔(مرقات)