Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
291 - 1040
باب بلوغ الصغیر و حضانتہ فی الصغر

بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ یعنی اس باب میں دوچیزیں بیان ہوں گی:ایک یہ کہ بچے کے بلوغ کی حد کیا ہے۔دوسرے یہ کہ بچہ کی پرورش کا حق کس کو ہے۔حضانت حضن سے بنا بمعنی گود میں لینے یا مرغی کے پر،حضانت بچہ کو گود میں لینے یا مرغی کے اپنے بچہ یا انڈے کو اپنے پروں میں ڈھکنے کوکہتے ہیں۔اصطلاح میں بچہ کی پرورش کو حضانت کہا جاتا ہے۔(لمعات و اشعہ و مرقات)خیال رہے کہ بلوغ کی عمر لڑکی کے لیے نو برس سے پندرہ برس تک ہے،لڑکے کے لیے بارہ برس سے پندرہ برس تک ہے اس پر فتویٰ ہے اور بچہ کی پرورش کا حق ماں کو ہے اگرچہ طلاق یافتہ ہو،ماں نہ ہو تو نانی پڑنانی کو،یہ بھی نہ ہوں تو دادی پڑدادی کو،یہ بھی نہ ہوں تو سگی بہن کو پھر خالہ پھوپھی کو۔پرورش کا حق اس وقت تک ہے کہ بچہ خود کھا پی سکے استنجاء کرسکے،لڑکے کے لیے سات سال اور لڑکی کے لیے حیض آنے تک،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔
حدیث نمبر291
روایت ہے حضرت ابن عمر سےفرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر احد کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں چودہ سال کا تھا تو مجھے قبول نہ فرمایا ۱؎ پھر خندق کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں پندرہ برس کا تھا تو مجھے قبول فرمالیا ۲؎ حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے فرمایا کہ یہ ہی غازیوں اور بچوں کے درمیان فرق ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی    ۳ھ؁  میں غزوہ احد ہوا مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں بھرتی کے لیے پیش کیا گیا کہ میرا نام بھی غازیوں کی فہرست میں ہو اور مجھے سپاہیانہ حیثیت سے غزوہ میں جانے کی اجازت ملے تو حضور نے انکار فرمادیا کہ ابھی یہ نابالغ بچے ہیں۔

۲؎ یعنی     ۴ھ؁ میں غزوہ خندق ہوا تب میری عمر پندرہ سال ہوچکی تھی تب میں اسلامی فوج میں بھرتی کے لیے پیش ہوا تو مجھے بھرتی کرلیا گیا۔

۲؎ خیال رہے کہ لڑکی کے بلوغ کی عمر کم از کم نو سال ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال اور لڑکے کے بلوغ کی عمر کم از کم بارہ سال زیادہ سے زیادہ اٹھارہ سال ہے مگر ایک روایت میں اس کی انتہائی عمر پندرہ سال ہے فتویٰ اسی پر ہے، یہ تو سن کے لحاظ سے بلوغ کا ذکر تھا،علامت بلوغ لڑکی کے لیے حیض ہوجانا یا زیر ناف بال آجانا یا احتلام ہے،لڑکے کے لیے علامات بلوغ احتلام، حاملہ کردینا، زیر ناف بال ہیں، یہاں بلوغ کی انتہائی عمر کا ذکر ہے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اس عمر سے پہلے لڑکا بالغ ہوسکتا ہی نہیں،مطلب یہ ہے کہ اگر پندرہ سال کی عمر میں بھی یہ کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو لڑکا بالغ مانا جائے گا۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
Flag Counter