| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حنین کے دن فرمایا ۲؎ کہ کسی اس شخص کو جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ اپنے پانی سے دوسرے کا کھیت سینچے یعنی حاملہ سے صحبت کرنا۳؎ اور جو شخص اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی قیدی عورت سے بغیر استبراء کئے صحبت کرے ۴؎ اور جو شخص اﷲ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو،اسے یہ حلال نہیں کہ تقسیم سے پہلے غنیمت فروخت کرے ۵؎(ابوداؤد)ترمذی نے غیرہ تک روایت کی۔
شرح
۱؎ صحابی ہیں، انصاری ہیں، مصریوں میں شمار کیے جاتے ہیں، امیر معاویہ نے انہیں طرابلس الغرب کا حاکم بنایا ۴۰ھ میں، انہوں نے ۴۷ھ میں افریقہ پر جہاد کیا ۵۶ھ میں شام میں وفات پائی،حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے۔ فقیر نے اس کی زیارت کی ہے فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا۔ ۲؎ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا۔ ۳؎ یہ تفسیر یا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود فرمائی یا راوی نے کی غیر کی حاملہ سے صحبت کرنا حرام ہے کہ اس میں اپنا نسب مشکوک مخلوط کرنا ہے حمل اگرچہ زنا کا ہو جب بھی صحبت حرام ہے اس لیے حاملہ بالزنا سے نکاح حلال ہے مگر صحبت حرام۔ ۴؎ حاملہ ہو یا نہ ہو،اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوا کہ کنواری باکرہ لونڈی سے بھی بغیر استبراء صحبت درست نہیں کیونکہ سبی مطلق ارشاد ہوا۔ ۵؎ کیونکہ غنیمت تقسیم سے پہلے کسی کی ملک نہیں ہوتی اس وقت اس کی بیع ایک قسم کی خیانت ہے۔