۱؎ جو غزوۂ اوطاس میں گرفتار ہو کر آئی تھیں او طاس مکہ معظمہ سے تین منزل فاصلہ پر ایک جگہ ہے یہ غزوہ فتح مکہ کے فورًا بعد ہوا۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ جو لونڈی اپنی ملک میں آئے اگر حاملہ ہو تو حمل جننے تک اس کے پاس نہ جائے اگر غیر حاملہ ہو تو ایک حیض کا انتظار کرے اگر بحالت حیض مالک ہوا تو اس حیض کا اعتبار نہیں اس کے علاوہ ایک اور حیض کا انتظار کرے،اگر اسے کم عمری یا زیادتی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو جمہور علماء ے نزدیک ایک ماہ کا انتظار کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر زوجین میں سے ایک ہمارے ہاں گرفتار ہو کر آجائے تو نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن اگر دونوں گرفتار ہو کر آجائیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور ہر نئی ملکیت میں استبراء واجب ہوتا ہے مرد سے خریدے یا عورت سے لہذا مکاتبہ جب اپنے کو اداء کتابت سے عاجز کردے یا فروخت کردہ لونڈی جب عیب یا فسخ بیع کی وجہ سے واپس ہوجائے تو بھی اسبتراء کرے۔(مرقات)