Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
253 - 1040
حدیث نمبر253
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے کہ جو عورت طلاق دی جائے پھر ایک یا دو حیض آجائیں پھر اس کے بعد حیض بند ہوجائیں ۱؎ تو وہ نو مہینے انتظار کرے ۲؎ پھر اگر اس کو حمل ظاہر ہوجائے ۳؎ تو فبھا ورنہ نو مہینے کے بعد تین ماہ عدت گزارے پھر وہ حلال ہو جائے گی ۴؎ (مالک)
شرح
۱؎ رفعتھا  دراصل رفعت عنہا تھا عن پوشیدہ ہوگیا اور ھا ضمیر منصوب ہوگئی جسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں۔

۲؎ صورت مسئلہ یہ ہوئی کہ طلاق کی عدت تھی تین حیض،دو حیض آچکے تھے،تیسرا حیض نہ آیا لہذا عدت پوری نہ ہوئی یہ عورت نو ماہ اور انتظار کرے کہ شاید اس کو زنا کا حمل رہ گیا ہو یا خاوند کا ہی حمل ہو اور دوبارہ استحاضہ خون آگیا ہو جسے یہ حیض سمجھتی ہو۔

۳؎ اگر حمل ظاہر ہوگیا تو مسئلہ ظاہر ہے کہ حمل جننے سے اس کی عدت پوری ہوگی، خیال رہے کہ اگر عدت  طلاق کے دوران میں  عورت کو  حرام کا حمل   رہ جائے تو عدت حمل جننے سے پوری ہوتی ہے۔ اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۴؎ صورت مسئلہ یہ ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں اور حاملہ کے لیے حمل جن دینا،اور چھوٹی نابالغہ بچی اور آئسہ بوڑھی جنہیں حیض نہیں آتا ان کی عدت تین مہینہ،اس عورت کا حال یہ ہوا کہ طلاق کے بعد اسے دو حیض آئے پھر بند ہوگئے،شبہ ہوا کہ شاید یہ حاملہ تھی اس لیے نو ماہ کا انتظار کیا حمل بھی ظاہر نہ ہوا ۔تو معلوم ہوا کہ یہ آئسہ ہوگئی اب فتویٰ دیا گیا کہ آئسہ کی عدت تین ماہ گزارے۔اس مسئلہ میں بڑا اختلاف ہے ایک مذہب وہ بھی ہے جو یہاں مذکور ہوا۔خیال رہے کہ اگر عورت کو کسی بیماری یا بچہ کو دودھ پلانے کی وجہ سے حیض نہ آئے ہوں تو وہ بغیر تین حیض آئے عدت سے باہر نہ ہوگی علاج کرا کر حیض جاری کرائے پھر عدت پوری کرے اور اگر دوران حیض میں عورت آئسہ ہوجائے تو اس کی عدت تین حیض ہیں۔
Flag Counter