روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ کہ حضرت احوص شام میں فوت ہوگئے ۲؎ جب کہ ان کی بیوی تیسرے حیض میں داخل ہوئیں وہ انہیں طلاق دے چکے تھے ۳؎ تو حضرت معاویہ ابن ابوسفیان نے زید ابن ثابت کو خط لکھا ان سے اس کے متعلق دریافت کرتے تھے ۴؎ تو حضرت زید نے انہیں لکھا کہ وہ جب تیسرے حیض میں داخل ہوگئیں تو اپنے خاوند سے علیحدہ ہوچکیں اور وہ ان سے علیحدہ ہوگئے ۵؎ نہ یہ ان کی وارث ہوں نہ وہ ان کے ۶؎(مالک)
شرح
۱؎ اپ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں عظیم الشان تابعی ہیں مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں۔ ۲؎ احوص ابن جواب اجنبی اہل کوفہ سے ہیں تابعی ہیں آپ کا انتقال ۲۲۱ھ میں شام میں ہوا۔(مرقات) ۳؎ صورت مسئلہ یہ بنی کہ احوص ابن جواب نے اپنی بیوی کو طلاق دی وہ عدت طلاق حیض سے گزاررہی تھیں تیسرا حیض تھا کہ احوص کی وفات واقع ہوگئی ان کی بیوی پر دو عدتیں جمع ہوگئیں ایک طلاق کی عدت جس کا تیسرا حیض گزررہا تھا۔دوسری وفات کی عدت چار ماہ دس دن۔ ۴؎ یہ مقدمہ حضرت معاویہ کے ہاں پیش ہوا کہ احوص کی بیوی عدت کس طرح گزاریں صرف عدت طلاق گزاریں یا عدت وفات بھی اور یہ کہ ان بیوی صاحبہ کو احوص کی میراث ملے گی یا نہیں کیونکہ عدت کے دوران احوص کا انتقال ہوگیا ہے عدت حکمی نکاح ہے تو شاید میرا ث مل جائے امیر معاویہ جواب و فیصلہ میں حیران ہوئے تو حضرت زید ابن ثابت کو خط لکھا مسئلہ پوچھنے کے لیے معلوم ہوا کہ بڑے سے بڑا عالم بھی مسئلہ پوچھنے میں شرم نہ کرے جو مسئلہ معلوم نہ ہو ضرور دریافت کرلے دیکھو حضرت معاویہ فقیہ صحابہ ہیں مگر جو مسئلہ معلوم نہ تھا وہ اپنے سے بڑے عالم سے دریافت کرلیا۔ خیال رہے کہ حضرت زید ابن ثابت میراث کے بڑے عالم تھے۔ ۵؎ یعنی جب احوص کی بیوی نے تیسرے حیض کا خون دیکھا تو ان کی عدت طلاق پوری ہوگئی ا ور احوص کی وفات عدت طلاق پوری ہوچکنے کے بعد واقع ہوئی لہذا وہ اس حیض کی حالت میں اپنا نکاح دوسرے سے کرسکتی ہیں اور خاوند احوص کی میراث نہیں پائیں گی کیونکہ ان کی وفات عدت گزرچکنے پر ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ یہ مسئلہ حضرت زید ابن ثابت کے مذہب پر ہے کیونکہ ان کے ہاں عدت طلاق تین طہر ہیں۔تیسرے حیض پر تین طہر پورے ہوچکے تھے،خبر نہیں کہ جناب امیر معاویہ نے حضرت زید کا یہ فتویٰ مانا یا نہیں۔خیال رہے کہ حضر ت عائشہ و ابن عمرو زید ابن ثابت کا قول یہ ہے کہ طلاق کی عدت تین طہر ہیں یہ ہی امام شافعی کا مذہب ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین،اور خلفائے راشدین،عبداﷲ ابن مسعود،ابن زبیر،ابن عباس،ابن ابی ابن کعب معاذ ابن جبل،ابوالدرداء عبادہ ابن صامت،ابو موسیٰ اشعری کا مذہب یہ ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ خیال رہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت زید ابن ثابت سے یہ روایتیں بھی منقول ہیں کہ عدت طلاق تین حیض ہیں ان دونوں بزرگوں کے اقوال مختلف ہیں حضرت سعید ابن مسیب ابن جبیر،عطاء طاؤس،عکرمہ مجاہد،قتادہ، ضحاک،حسان ابن حی مقاتل،شریک قاضی،سفیان ثوری،امام اوزاعی ابن شبرمہ،ربیعہ سدی،ابوعبیدہ و اسحاق رحمہم اﷲ تابعین و تبع تابعین تمام بزرگوں کایہ ہی مذہب ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں اس قول کی بنا پر تیسرے حیض سے فراغت پر عدت پوری ہوتی ہے مگر چونکہ اسی دوران میں خاوند کی وفات ہوگئی اس لیے اب دراز عدت گزارنی ہوگی یعنی چار ماہ دس دن بھی گزارنی ہوگی۔ ۶؎ اگر عدت حیض سے ہو اور خاوند نے مرض وفات میں طلاق دی ہو تو ایسی صورت میں عورت کو خاوند کی میراث ملے گی اسے شریعت میں فارباالطلاق کہتے ہیں۔