Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
245 - 1040
حدیث نمبر245
روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے کہ سبیعہ اسلیمہ اپنے خاوند ۱؎ کی وفات کے چند دنوں بعد نفاس والی ہوگئیں ۲؎ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ سے نکاح کرلینے کی اجازت مانگی حضور نے انہیں اجازت دیدی تو انہوں نے نکاح کرلیا ۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ اس کے خاوند سعد ابن خولہ تھے جو حجۃ الوداع میں مکہ معظمہ میں وفات پاگئے،بدر میں حاضر ہوئے تھے۔مسور ابن مخرمہ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ یہ عبدالرحمن ابن عو ف کے بھانجہ ہیں      ۲ھ؁ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور     ۸ھ؁ میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔

۲؎ یعنی حاملہ تھیں اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تھا نفاس آنے سے یہ ہی مرادہے۔

۳؎ اس پر امت کا اجماع ہے کہ حاملہ کی عدت حمل جن دینا ہے،خواہ مطلقہ ہو یا وفات والی،اگرچہ طلاق یا وفات کے ایک منٹ بعد ہی بچہ پیدا ہوجائے،اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی عدت ابعد الاجلین ہے یعنی چار ماہ دس دن اور وضع حمل ہی سے  جو بعد میں ہو وہ عدت ہے۔
Flag Counter