Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
210 - 1040
حدیث نمبر 210
روایت ہے محمود ابن لبید سے ۱؎ فرماتے ہیں رسول اﷲ کو اس شخص کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی عورت کو ایک دم تین طلاقیں دے دیں ۲؎ تو آپ غصہ میں کھڑے ہوگئے۔۳؎ پھر فرمایا کیا وہ اﷲ عزوجل کی کتاب سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان ہوں ۴؎ حتی کہ ایک شخص اٹھا پھر بولا یا رسول اﷲ کیا میں اسے قتل نہ کردوں ۵؎(نسائی)
شرح
۱؎ آپ انصاری اشہلی ہیں،بعض نے فرمایا کہ صحابی ہیں،بعض نے فرمایا کہ تابعی ہیں،   ۹۶ھ؁ میں وفات پائی،شیخ نے فرمایا کہ امام بخاری نے انہیں صحابی فرمایا ہے امام مسلم نے تابعی کہا صحیح قول امام بخاری کا ہے۔(اشعہ)

۲؎ اس طرح کہ ایک ہی مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں دے دیں یا اس طرح کہہ دیا تجھے تین طلاق یا اس طرح کہ کہا تجھے طلاق،طلاق،طلاق۔

۳؎ کیونکہ اس طرح طلاق دینا بدعت ہے چاہیے یہ کہ اگر تین طلاقیں دینا ہی ہوں تو ہر طہر میں ایک طلاق دے تین طہروں میں تین طلاقیں اور بہتر یہ ہے کہ صرف ایک ہی طلاق دے تین طلاق دے ہی نہیں۔

۴؎ اس میں انتہائی غضب کا اظہار ہے یعنی تین طلاقیں یکدم دینا کتاب اﷲ کا مذاق اڑانا ہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ"اور یہ ایک دم طلاقیں دے رہا ہے۔ خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ،شافعی،احمد،مالک اور جمہور علماء کے نزدیک بیک وقت تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں مگر ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اس سے ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوتی،طاؤس کہتے ہیں کہ اس سے ایک طلاق ہوتی ہے،جمہور علماء کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے "وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ لَا تَدْرِیۡ لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"دیکھو قرآن کریم نے طلاقیں جمع کرنے کو ظلم قرار دیا اور باعث ندامت مگر طلاقیں واقع مان لیں نیز بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے یک دم تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ابھی گزر چکا کہ ابو رکانہ سے حضور نے قسم لی کہ کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی ؟ اس کی پوری اور نفیس تحقیق ہماری کتاب طلاق الادلۃ میں دیکھئے۔

۵؎ شاید یہ صاحب اجازت قتل مانگنے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے آپ کا خیال یہ ہوا ہوگا کہ کتاب اﷲ سے کھیلنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچانا کفر ہے اور مسلمان کا کفر ارتداد ہوتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے مگر ان کے قتل کی اجازت نہ دی گئی کیونکہ حضور کو دکھ پہنچنا اور آپ کو رنجیدہ کرنے کی غرض سے کوئی کام کرنا تو کفر ہے مگر کسی کے کسی کام سے حضور کو دکھ پہنچانا جانا کفر نہیں دکھ پہنچا نے اور پہنچ  جانے میں بڑا فرق ہے،مسلمان کے گناہ سے حضور کو صدمہ ہوتا ہے "عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"مگر گناہ کفر نہیں ہوتا اس شخص نے یہ کام نادانی سے کیا تھا نہ کہ حضور کو صدمہ پہنچانے کے لیے ۔اس سے معلوم ہواکہ تین طلاقیں ایک دم دے دینا برا ہے لیکن اس سے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی جیسے بحالت حیض طلاق دینا حرام ہے مگر اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ایک دم تین طلاقیں دینا اس لیے بھی برا ہے کہ اس میں پھر دوبارہ رجوع کا موقع نہیں ملتا پھر خاوند پچھتاتا ہے۔
Flag Counter