۱؎ نافع حضرت عبداﷲ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں اور صفیہ بنت ابی عبید مختار ابن ابی عبید ثقفی کی بہن ہیں،تابعیہ ہیں،عبداﷲ ابن عمر کی زوجہ ہیں حضور کو دیکھا مگر آپ سے کوئی حدیث مروی نہیں،حضرت عائشہ صدیقہ و حفصہ رضی اللہ عنہما روایات کرتی ہیں۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یعنی ان مولاۃ نے اپنے خاوند سے کہا کہ جو کچھ تو نے مجھے مہر وغیرہ دیا ہے اور جو کچھ میرے پاس اپنا مال ہے اور جو کچھ حقوق عدت کے ہوتے ہیں ان سب کے عوض مجھے طلاق دے دے غرضکہ ہر قسم کا مال ہر قسم کے حقوق کے عوض طلاق لی۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر عورت مہر وغیرہ سے زیادہ مال بھی خلع میں خاوند کو دے دے تو جائز ہے اگر چہ مستحب یہ ہے کہ خاوند صرف اپنا دیا ہوا مال ہی خلع میں واپس لے زیادہ نہ لے،چنانچہ پہلے گزر چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت ابن قیس کی بیوی سے صرف وہ باغ واپس کرایا جو ثابت نے انہیں دیا تھا،ان کی بیوی کا نام حبیبہ بنت سہل انصاریہ ہے اسلام میں پہلا خلع یہ ہی ہوا تھا۔