۱؎ ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء مطلقًا چھپانا واجب ہیں کہ نہ مرد مرد کے یہ اعضاء دیکھے نہ عورت عورت کے لیکن عورت مرد اجنبی کے لیے سر سے پاؤں تک لائق پردہ ہے اور نماز کے لیے عورت سر سے پاؤں تک جسم ڈھکے سوائے چہرہ کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنے کے نیچے پاؤں کے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ بے داڑھی مونچھ کا امرد لڑکا بھی بعض احکام میں عورت کی طرح ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی احتیاط کرے۔(اشعہ)ضر ورتًا شرعیت کے احکام جداگانہ ہیں کہ بچہ جنتے وقت دایہ ستر دیکھتی ہے،یوں ہی بعض صورتوں میں مرد کو ننگا کرناپڑتا ہے۔محرم مرد اپنی محرمہ عورت کا چہرہ ہاتھ پاؤں سر دیکھ سکتا ہے،خاوند بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں،اس سے کسی عضو کا چھپانا واجب نہیں،ہاں شرمگاہ کا دیکھنا بینائی ضعیف کرتا ہے ماں باپ اپنے جوان بیٹے بیٹی کو چوم سکتے ہیں،سونگھ سکتے ہیں یوں ہی جوان لڑکا،لڑکی اپنے ماں باپ کو چوم سکتا ہے دیکھنے و چھونے کے مکمل احکام شامی عالمگیری وغیرہ باب اللمس و النظر میں دیکھئے۔
۲؎ یعنی مرد مرد کے ساتھ یوں ہی عورت عورت کے ساتھ ننگے نہ لیٹیں کہ یہ حرام بھی ہے اور بے غیرتی بھی لہذا دو ننگے مرد ایک چادر اوڑھ کر نہ سوئیں،یوں ہی دو ننگی عورتیں سبحان اﷲ! کیسی پاکیزہ تعلیم ہے۔