۱؎ یعنی یہ ممنوع ہے کہ عورت اپنے خاوند سے دوسری عورت کے حسن کا تذکرہ کرے یہ بھی فتنہ کا باعث ہے کیونکہ۔شعر
نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بسا ایں دولت از گفتار خیزد
بعض اوقات سن کر عشق پیدا ہوجاتا ہے اسی لیے فقہا فرماتے ہیں کہ عشقیہ فحش گانے اور عورتوں کے حسن کے اشعار سننا حرام ہے کہ باعث فتنہ ہے یہ بیماری عمومًا عورتوں میں پائی جاتی ہے کہ دوسری عورتوں کے حسن کا تذکرہ اپنے خاوندوں سے کرتی ہیں سخت جرم ہے۔اس حدیث کی بنا پر بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ حیوان کی بیع سلم جائز ہے کہ بعض بیان مثل عیان کے ہوتے ہیں،ہوسکتا ہے کہ حیوان کے پورے اوصاف بیان کردیئے جائیں جس سے وہ متعین ہوجائے دیکھو سرکار فرماتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے مگر ہمارے امام صاحب کے ہاں ممنوع ہے کیونکہ جانوروں کے باطنی اوصاف بیان میں نہیں آسکتے،اور بیع سلم میں پورا علم چاہیے۔