| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی منت اس میں نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۱؎ اور نہ اس میں آزاد کرنا ہے،جس کا وہ مالک نہ ہو اور نہیں ہے طلاق اس میں جس کا وہ مالک نہ ہو ۲؎ (ترمذی)ابوداؤد نے یہ زیادتی کی کہ نہ فروخت ہے مگر اس میں جس کا مالک ہو۔
شرح
۱؎ لہذا اگر کوئی کسی خاص غلام کو آزاد کرنے کی منت مانے مگر منت کے وقت اس غلام کا مالک نہ ہو تو منت درست نہ ہو گی اگر بعد میں اس غلام کا مالک ہو بھی گیا تب بھی وہ آزاد نہ ہوگا۔ ۲؎ حضرت امام شافعی اس حدیث کے ظاہری معنی پر عمل کرتے ہیں کہ اجنبیہ عورت اور دوسرے کے غلام کو نہ طلاق و آزاد کرسکتے ہیں نہ ان کی طلاق و آزادی کو نکاح یا ملکیت پر معلق کرسکتے ہیں حضرت علی، ابن عباس، عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہم کا یہ ہی قول ہے، ہمارے امام صاحب کے ہاں تعلیق نکاح وعتق جائز ہے،مثلًا اگر اجنبیہ سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق یا اجنبی غلام سے کہے کہ اگر میں تجھے خریدوں تو تو آزاد ہے پھر نکاح کرے یا خرید لے تو طلاق و آزادی واقع ہوجائے گی یہی قول ہے حضرت ربیعہ امام اوزاعی اور ابن ابی لیلی کا، یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،وقوع طلاق یا وقوع عتاق بغیر نکاح یا بغیر ملک نہیں ہوسکتا کیونکہ طلاق سے نکاح ختم کیا جاتا ہے اور عتاق سے ملکیت جب نکاح یا ملکیت موجود ہی نہ ہو تو ختم کیا چیز ہوگی،رہا تعلیق طلاق و عتاق یہ بہرحال جائز ہے بشرطیکہ نکاح یا ملکیت پر معلق کیا جائے یہ حدیث وقوع کی نفی کے لیےہے وہ ہم بھی کہتے ہیں ہاں ابو ثعلبہ خشنی سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عمر نے فرمایا کہ تم میرا فلاں کام کردو تو میں اپنی بیٹی سے تمہارا نکاح کردوں گا میں نے کہا کہ اگر میں تمہاری بیٹی سے نکاح کروں تو اسے تین طلاق،پھر میں نے اس سے نکاح کرنا چاہا، حضور سے مسئلہ دریافت کیا تو فرمایا نکاح کرلو طلاق واقع نہ ہوگی یہ حدیث واقع امام اعظم کے خلاف ہے مگر اس کی اسناد میں ابوخالد واسطی ہے جو حدیثیں گھڑنے میں مشہور تھا، چنانچہ امام احمد و معین نے فرمایا یہ جھوٹا ہے نیز اس میں علی ابن قرین راوی ہے جسے امام ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ حدیثوں کا چور ہے لہذا اس قسم کی روایات بالکل موضوع ہیں اس کی نفیس تحقیق یہاں مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔