۱؎ لہذا اگر کوئی شخص اجنبیہ عورت سے کہے کہ تجھے طلاق ہے پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی یوں ہی اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے،پھر وہ عورت گھر میں جائے تو طلاق نہیں واقعی ہوگی۔لیکن اگر اجنبیہ عورت سے کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق پھر اس سے نکاح کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی غرضکہ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ یا تو نکاح کے بعد بولی جائے یا نکاح پر معلق کی جائے۔
۲؎ یعنی دوسرے کے غلام کو یہ شخص آزاد نہیں کرسکتا اگر اس سے آزادی کے الفاظ کہہ دے پھر اس کا مالک ہوگیا تو وہ غلام آزاد نہ ہوگا۔
۳؎ یعنی روزہ پر روزہ رکھنا درمیان میں افطار نہ کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کوئی اور نہیں رکھ سکتا ہم کو افطار کرنا ضروری ہے۔
۴؎ جس کا باپ فوت ہوجائے وہ یتیم کہلاتا ہے بشرطیکہ نابالغ ہو بالغ لڑکا یتیم نہیں کہلاتا۔
۵؎ لہذا جو بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے،ڈھائی برس عمر کے بعد تو وہ عورت اس بچہ کی رضاعی ماں نہ بنے گی نہ یہ بچہ اس کا دودھ کا بیٹا ہوگا اور نہ اس پر رضاعت کے احکام جاری ہوں گے۔
۶؎ یعنی اسلام میں چپ کا روزہ نہیں پچھلے دینوں میں تھا اگرچہ بری باتوں سے خاموشی بہتر ہے مگر خاموشی ہمارے ہاں عبادت نہیں بلکہ اس میں ہندوؤں اور عیسائیوں سے مشابہت ہے۔