۱؎ ہر طرح عدل فرماتے تھے باری میں،خرچہ میں،ہدیہ و عطیہ میں،یہ ایک کلمہ تمام قسم کے عدل اور انصاف کو شامل ہے مگر باری کا عدل استحبابًا تھا نہ کہ وجوبًا کیونکہ آپ پر باری واجب نہ تھی۔
۲؎ یعنی برتاوے میں تو ہر طرح برابری کرتا ہوں رہا میلان قلبی اور دلی محبت وہ حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ ہے،دل تیرے قبضہ میں ہے اور زیادتی میلان تیری طرف سے ہے،اس میں مجھ پر عتاب نہ فرمانا۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند پر برتاوے اور ادائے حقوق میں برابر ی کرنا لازم ہے،میلان قلبی اگر کسی بیوی کی طرف زیادہ ہو تو اس کا گناہ نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ"۔