| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوقلابہ سے ۱؎ وہ جناب انس سے راوی فرماتے ہیں کہ سنت سے ہے ۲؎ یہ کہ جب کوئی شخص بیوہ پر کنواری سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات دن رہے اور باری مقرر کرے اور جب بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن رہے پھر باری مقرر کرے ۳؎ ابوقلابہ نے فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ جناب انس نے یہ حدیث نبی کریم تک مرفوع کی ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ جلیل الشان تابعی ہیں،آپ کا نام عبداﷲ ابن زید جرمی ہے،آپ پر قضاء پیش کی گئی تو قبول نہ کی بلکہ قاضی بنائے جانے کے خو ف سے غیر معروف جنگل میں رہنے سہنے لگے ۱۰۶ھ میں شام میں وفات پائی۔ ۲؎ یہ سنت قولی بھی ہے فعلی بھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر عمل بھی کیا اور حکم بھی دیا۔ ۳؎ یعنی باکرہ جدیدہ بیوی کے پاس سات دن ٹھہرے،پھر پرانی بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ہی قیام کرے،اور بیوہ جدیدہ کے پاس تین دن ٹھہرے،پھر پرانی بیویوں کے پاس بھی تین تین دن ہی قیام کرے،غرضکہ یہ سات یا تین دن باریوں میں شمار ہوں گے یہ ہی احناف کا مذہب ہے قران کریم فرماتاہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوٰحِدَۃً"۔آئندہ احادیث بھی اسی معنے کی تائید کررہی ہیں،امام شافعی کے ہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ نئی بیوی کے پاس سات یا تین دن قیام کرکے پھر باری مقرر کرے،یہ قیام ان باریوں میں شمار نہ ہوگا،مگر احناف کا قول بہت قوی ہے،کیونکہ طریقہ شوافع عدل کے خلاف ہے عدل تمام بیویوں میں چاہیے نئی ہوں یا پرانی،قرآن کریم اور دیگر احادیث میں مطلقًا عدل کا حکم ہے نئی وپرانی میں فرق نہیں کیا گیا۔شوافع کے اس معنے کی بنا پر یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی اور دیگر احادیث کے بھی۔ ۴؎ یعنی اگرچہ حضرت انس نے مجھے یہ حدیث مرفوعًا نہیں سنائی اپنا قول سنایا مگر مجھ کو ان پر اعتماد ہے کہ وہ ایسی عظیم الشان بات اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سن کر ہی کہہ رہے ہیں۔