۱؎ اس طرح کہ ہر بی بی کا نام کاغذ کی پرچیوں پر لکھ کر ان کی گولیاں بنا کر کسی بچے کے ذریعہ ایک گولی اٹھواتے،اس میں جس کا نام نکل آتا،اس کو سفر میں لے جاتے،قرعہ ڈالنے کی اور بھی کئی صورتیں ہیں،مگر یہ زیادہ مروج ہے۔
۲؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ گھر کی طرح سفر میں لے جانے میں بھی باری واجب ہے اور قرعہ کے ذریعہ لے جانا واجب ہے،مگر یہ دلیل نہایت ہی ضعیف ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ اگر سفر میں باری واجب ہوتی تو قرعہ کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ ترتیب وار لے جانا واجب ہوتا کہ پہلے سفر میں ساتھ فلاں بی بی گئی تھی اب فلاں چلے،دوسرے یہ کہ یہ حضور انور کا فعل شریف ہے اور فعل سے بغیر امروجوب ثابت نہیں ہوتا حضور نے اس کا حکم نہ دیا۔تیسرے یہ کہ یہ عمل شریف بھی حضور نے اپنی طرف سے کیا حکم خداوندی نہ تھا،آپ پر بیویوں میں عدل گھر میں ہی واجب نہ تھا چہ جائیکہ سفر میں واجب ہوتا لہذا حق یہ ہی ہے کہ سفر میں باری مقرر کرنا واجب نہیں،جسے چاہے لے جائے،جسے چاہے چھوڑ دے،بعض بیویاں گھر کے انتظام کے لیے موزوں ہوتی ہیں بعض سفر کے انتظام کے لیے مناسب،ہاں مستحب ہے کہ قرعہ ڈال کر لے جائے،سرکار عالی کا یہ عمل شریف بیان استحباب کے لیے ہے دیکھو مرقات،لمعات فتح القدیر وغیرہ۔