Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
140 - 1040
حدیث نمبر 140
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا انصاری جس کی کنیت ابو شعیب تھی اس کا ایک غلام گوشت فروش تھا وہ بولا کہ میرے لیے کھانا تیار کرو جو پانچ کو کافی ہو،تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دعوت دوں،پانچ کے پانچویں ۱؎ چنانچہ غلام نے اس کے لیے کچھ کھانا تیار کیا ۲؎ پھر حضور کی بارگاہ میں آیا آپ کو دعوت دی ان کے ساتھ ایک شخص آگیا۳؎ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابو شعیب ایک شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے تم اگر انہیں اجازت دو تو فبہا اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۴؎ عرض کیا نہیں بلکہ میں نے اسے اجازت دی ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی چار حضرات غالبًا خلفائے راشدین حضور انور کے ساتھ ہوں اور پانچویں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہوں اس نے چہرہ انور پر بھوک کے آثار دیکھے تھے جیسا کہ بعض روایات میں ہے تب یہ انتظام کیا تھا معلوم ہوا کہ گوشت کی تجارت بھی سنت صحابہ ہے۔

۲؎ مرقات نے فرمایا طعیمًا کی تفسیر کمی کے لیے نہیں ہے کیونکہ ابو شعیب نے کھانا کافی تیار کیا تھا بلکہ معنی یہ ہیں کہ پرتکلف کھانا تیار کیا جو نہایت لذیذ تھا۔ خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے لذیذ کھانے بھی تناول فرمائے ہیں،مرغ بھی کھایا ہے مگر بیک وقت چند کھانے نہ کھائے،اسی لیے فقہا فرماتے ہیں کہ بیک وقت چند کھانے بدعت،جائز نہیں۔(دیکھو شامی وغیرہ)اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے لیے پر تکلف لذیذ کھانا تیار کرنا سنت ہے حضرت ابراہیم خلیل اﷲ(علیہ الصلوۃ والسلام)نے پراٹھے شیر مال ایجاد کیے مہمانوں کے لیے۔(دیکھو ہماری کتاب تفسیر نعیمی پہلا پارہ)

۳؎ غالبًا یہ چھٹا شخص راستہ سے ساتھ ہولیا تھا اور غالبًا اسی سے فرما بھی دیا ہوگا کہ تمہارے لیے اگر اجازت مل گئی تو کھالینا ورنہ واپس آجانا،اس پر برا نہ ماننا۔

۴؎ سبحان اﷲ! یہاں تو ایک زائد شخص کے لیے اجازت حاصل فرما رہے ہیں اور حضرت جابر و طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے گھر چار پانچ آدمیوں کی دعوت میں کئی سو حضرات کو لے گئے اور کھانا کھلایا،یہاں مسئلہ شرعی بتانا مقصود ہے اور وہاں اپنی ملکیت اور سلطنت خداداد کا اظہار مقصود کہ حضور ہم سب کے مالک ہیں،ساری امت حضور کی لونڈی غلام،مالک کو حق ہے کہ اپنے غلام کی دعوت میں جسے چاہے بلائے،کیونکہ غلام کا مال مالک کا مال ہے،نیز وہاں ان صدہا حضرات کو حضور نے خود اپنے معجزے سے کھانا کھلایا کہ وہاں کھانا کھانے سے کم نہ ہوا،جو چیز خرچ کرنے سے کم نہ ہو وہاں بلانے نہ بلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کنوئیں،دریا سے بغیر بلائے سب پانی پیتے ہیں مگر گھڑے کا پانی مالک سے پوچھ کر،ایصال ثواب کا بھی یہی حکم ہے،اگر کسی خاص میت کے لیے کھانا پکایا گیا ہے تو تم اس کے ساتھ ساری امت رسول کو ثواب پہنچاسکتے ہو۔

۵؎ اس سے دعوت کے متعلق بہت سے مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص بغیر بلائے دعوت میں نہ جائے۔دوسرے یہ کہ بلایا ہوا آدمی بھی اپنے ساتھ کسی ناخواندہ کو نہ لے جائے الابالعرف چنانچہ بادشاہ کی دعوت میں اس کا باڈی گارڈ عملہ جاسکتا ہے کہ اب اس پر عرف قائم ہے،تیسرے یہ کہ ناخواندہ شخص کے لیے اجازت لی جائے۔چوتھے یہ کہ ناخواندہ بغیر اجازت داعی کے گھر میں داخل نہ ہو،پانچویں یہ کہ مہمان کھاتے وقت کسی آجانے والے آدمی کو آرڈر نہ کرے کہ آؤ کھانا کھالو کیونکہ مہمان کھانے کا مالک نہیں،چھٹے یہ کہ دستر خوان والا دوسرے دستر خوان والے کو کوئی چیز اس دستر خوان کی نہ دے ہاں ایک دستر خوان کے لوگ ایک دوسرے کو جو چاہیں دیں،بعض فقہاء تو فرماتے ہیں کہ مہمان اجنبی کتے کو ہڈی بھی نہیں ڈال سکتا،اگر مالک کا کتا ہے تو اس کو ڈالے۔(از مرقات،و شامی وغیرہ مع زیادت)بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مہمان کسی وجہ سے خود کھانا نہ کھائے تو اپنا حصہ دوسرے کو بغیر اجازت کھلا سکتا ہے۔واﷲ اعلم!(مرقات)
Flag Counter