۱؎ کیونکہ ایسے ولیمہ میں زیادہ نام و نمود ہی ہوتا ہے للہیت نہیں ہوتی آج کل خوشی کی دعوتوں میں عمومًا امراء اور موت وغیرہ غمی کی دعوتوںمیں فقیر و طلبہ بلائے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فقیر دعائیں کرتے ہیں کہ خدا کرے امیر مریں تاکہ ہم کو کھانا و خیرات ملے،اگر ولیمہ اور دیگر خوشی کی دعوتوں میں بھی فقراء بلائے جائیں تو یہ فقراء خوشی کی بھی دعائیں کرتے۔آج کل مشہور ہے کہ بھانڈ بھنڈ یلے مراثی،باجے والے تو خوشی کی دعائیں کرتے ہیں اور فقراء غمی کی،غرض کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر فرمان میں صدہا حکمتیں ہیں،بعض لوگ ان دعوتوں میں فقراء کو بھی بلاتے ہیں۔مگر انہیں سب سے پیچھے اور ذلت و خواری سے کھلاتے ہیں،یہ اور زیادہ برا ہے فقراء بھی ہمارے بھائی ہیں۔
۳؎ یہ جملہ ان علماء کی دلیل ہے جو قبول دعوت کو واجب یا فرض کہتے ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اس سے استحباب کی تاکید مقصود ہے یا وہ شخص مراد ہے جو تکبر کی وجہ سے مسلمانوں کی دعوتوں میں شرکت نہ کرے جیسا کہ آج بعض منکرین کو دیکھا جاتا ہے۔