۱؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، بعض نے فرمایا کہ فرض کفایہ ہے وہ حضرات وجوب کے لیے یہ امر مانتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت طعام اس کا قبول کرناسنت ہے وہاں جانا بھی سنت رہا کھانا اس کا اختیار ہے جیسا کہ آیندہ حدیث میں آرہا ہے۔ خیال رہے کہ دعوت قبول کرناواجب یا فرض کفایہ یا سنت جب ہے جب کہ کوئی مانع موجود نہ ہو ورنہ نہیں جس کا کھانا مشکوک ہو حرام کی آمدنی سے کھانے پکانے کا قوی احتمال ہو یا ولیمہ میں صرف مالدار بلائے گئے ہوں فقراء کو چھوڑ دیا گیا ہو یا دعوت میں کوئی ایذا رساں چیز موجود ہو یا دستر خوان پر گانا باجہ ہو یا وہاں شراب کے دور ہوں یا رشوت کے طور پر بلاوا ہو یا ناجنسوں کی صحبت ہو تو قبول کرنا سنت نہیں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ اب اس زمانہ میں جلوت سے خلوت افضل سے بری صحبت سے تنہائی افضل۔(از مرقات واشعہ ولمعات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ عبارت کہ ولیمہ ہو یا اس کی مثل کسی راوی کا اپنا قول ہے جو بطور شرح شامل کیا گیا ہے۔یعنی ولیمہ،ختنہ،عقیقہ،کسی کی آمد پر دعوت یوں ہی اتفاقیہ دعوت سب ہی قبول کرنی چاہئیں،ختم فاتحہ کے کھانے فقراء کھائیں مالدار احتیاط کریں،بزرگوں کی فاتحہ کے کھانے تبرک ہیں سب کھائیں۔