۱؎ یعنی بی بی صفیہ غزوۂ خیبر میں مسلمان ہوئیں حضور کے نکاح میں آئیں مگر زفاف وہاں خیبر میں نہ ہوا بلکہ مدینہ منورہ واپس ہوتے ہوئے کسی منزل پر ہوا،وہاں تین دن قیام رہا وہاں ہی ولیمہ ہوا۔ ۲؎ انطاع جمع ہے نطع کی،نطع چمڑے کے دسترخوان کو کہتے ہیں چونکہ کھانے والے لوگ زیادہ تھے اس لیے کئی دستر خوان بچھائے گئے۔ ۳؎ جنگ خیبر میں حضرت صفیہ کے بھائی باپ خاوند قتل ہوگئے تھے جب حضور انور نے انہیں آزاد فرمایا تو ان سے فرمایا کہ تم کو اختیار ہے ہمارے پاس رہو یا اپنے گھر خیبر چلی جاؤ۔آپ بولیں کہ میں تو زمانہ کفر میں تمنا کرتی تھی کہ آپ کی غلامی میں رہوں اب تو اﷲ نے مجھے اسلام کی نعمت دے دی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کہ تمہاری ایک آنکھ ہری کیوں ہے؟ بولیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک چاند میری گود میں آپڑا میں نے اپنا یہ خواب اپنے خاوند کنانہ سے بیان کیا اس نے میرے تھپڑ مارا اور بولا کہ کیا تو یثربی بادشاہ(نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم )کے پاس جانے کی خواہش مند ہے یہ اس تھپڑ کا اثر ہے(مرقات)رب تعالٰی نے ان کا یہ خواب پورا کردیا۔