| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی اسے نظر رحمت سے نہ دیکھے گا جو لڑکے کے پاس یا عورت کے پاس دبر میں جائے ۱؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ یہ فرمان یا خبر یا بددعا یعنی جو لڑکے یا کسی عورت سے اپنی ہو یا غیر دبر میں صحبت کرے اﷲ تعالٰی اسے قیامت میں نظر رحمت سے نہ دیکھے یا نہ دیکھے گا اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کی بھی قید نہ ہو دنیا و آخرت میں ایسے لوگ رب تعالٰی کی رحمت سے محروم ہوں کہ انہیں نہ دنیا میں توفیق خیر ہے نہ آخرت میں قبولیت۔خیال رہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں ان سے حرمت قطعیہ ثابت نہیں ہوسکتی، اسی لیے فقہاء اور علماء اصول نے اس فعل کی قطعی حرمت قیاس قطعی سے ثابت کی ہے انہوں نے وطی بحالت حیض پر قیاس فرمایا۔