۱؎ آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے، انصاری اوسی ہیں، لقب ذوالشہادتین ہے، بدر وغیرہ غزوات میں شریک ہوئے فتح مکہ کے دن انصار اوس کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا، جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب عمار بن یاسر شہید ہوئے تو تلوار سونت لی جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے رضی اللہ عنہ۔(اکمال مرقات،اشعہ)
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ مقصد یہ ہے کہ ہم حق بات فرمانے سے شرم نہیں کرتے ہر مسئلہ ظاہر فرمادیتے ہیں مگر چونکہ آپ کا فرمان درپردہ حق تعالٰی کا ارشاد ہے اسی لیے اس کو رب تعالٰی کی طرف سے نسبت فرمایا اس میں علماء کو تاکید ہے کہ شرم کی وجہ سے شرعی مسائل بیان کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔
۳؎ نسآء سے مراد مطلقًا عورتیں ہیں خواہ اپنی بیویاں ہوں یا اپنی لونڈیاں۔ خیال رہے کہ اجنبی عورت سے دبر میں صحبت زنا کے حکم میں ہے جس کی سزا زنا کی طرح ہے،اپنی بیوی یا اپنی لونڈی سے دبر میں صحبت کرنا حرام تو ہے مگر اس پر زنا کی سزا نہیں بلکہ تعزیر ہے لڑکے سے دبر میں صحبت سخت حرام ہے فاعل قتل کیا جائے مفعول اگر دیوانہ ہو یا بہت چھوٹا بچہ ہو یا مجبور کیا گیا ہو تو اس پر سزا نہیں ورنہ وہ بھی سزا کا مستحق ہے دیکھئے کتب فقہ و مرقات۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو دبر میں صحبت کی حرمت کا انکار کرے وہ کافر نہیں کیونکہ اس کی حرمت قطعی الثبوت قطعی الدلالت نص سے ثابت نہیں۔مگر فقیر احمد یار کی تحقیق یہ ہے کہ وہ کافر ہے اس کی بحث ہماری تفسیر نعیمی جلد دوم میں ملاحظہ کیجئے اس کی قطعی حرمت قیاس قطعی سے ثابت ہے۔