۱؎ یعنی یہود کی تردید میں یہ آیت کریمہ اتری وہ کہتے ہیں کہ اگر خاوند اپنی بیوی کے پاس پیچھے سے فرج میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے اس آیت میں ان کا رد کیا گیا۔
۲؎ یہ اس آیت کی تفسیر ہے یعنی خاوند کو اختیار ہے کہ اپنی بیوی سے آگے سے صحبت کرے یا پیچھے سے مگر شرط یہ ہی ہے کہ ہو فرج میں اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا کہ اپنی کھیتی کے پاس آؤ اور ظاہر ہے کہ کھیتی فرج ہے نہ کہ دبر، نیز فرج میں بھی بحالت حیض صحبت حرام ہے کیونکہ اس حالت میں فرج بھی دبر کی طرح نجاست کی جگہ ہوتی ہے اور صحبت مضر حق یہ ہے کہ جو شخص حیض میں صحبت حلال جانے وہ کافر ہے کہ نص قرآنی کا منکر ہے۔