Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
69 - 671
حدیث نمبر69
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کے رنج و غم زیادہ ہو جائیں وہ یہ پڑھے ۱؎ الٰہی میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا اور تیری بندی کا بچہ ہوں ۲؎  اور میری پیشانی تیرے قبضہ میں ہے ۳؎ مجھ میں تیرا حکم جاری ہے میرے بارے میں تیرا فیصلہ عین انصاف ہے ۴؎ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کی برکت سے جو تو نے اپنا رکھا یا جو نام اپنی کتاب میں اتارا یا جو نام اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا جو نام اپنے پاس پردہ غیب میں پوشیدہ یہ مانگتا ہوں ۵؎ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے رنج و غم کا دفعیہ بنادے ۶؎ یہ کلمات کوئی بندہ نہیں کہتا مگر اﷲ اس کا غم دور کردیتا ہے اور اس کے عوض کشادگی دیتا ہے۷؎ (رزین)۸؎
شرح
۱؎ یعنی رنج و غم میں گھر ا ہوا  آدمی یہ دعا پڑھا کرے،مراد دنیاوی رنج و غم ہیں جن کے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے آخرت کے رنج و غم تو  اﷲ کی نعمت ہیں ان کے دفع کی کوشش نہ کرے بلکہ ان کے بقا کی دعا مانگے،عشق خدا  اور رسول کا رنج و غم تو مقصد حیات ہے۔شعر

ترا غم رہے سلامت میرے دل کو کیا کمی ہے 		یہ ہی میری بندگی ہے یہ ہی میری زندگی ہے

ترا درد میرا درماں ترا غم مری خوشی ہے  		مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے 

۲؎  یعنی خدایا میں تین طرح تیری رحمت کا حقدار ہوں ایک یہ کہ میں خود تیرا بندہ ہوں۔دوسرے یہ کہ میرا باپ بھی تیرا بندہ ہے۔تیسرے یہ کہ میری ماں بھی تیری بندی اور بارگاہِ عالی کی لونڈی ہے پھر ان نسبتوں کے ہوتے ہوئے تیرے در سے کیسے محروم رہوں گا۔

۳؎ یعنی میں تیرے ملک و تصرف میں ہوں۔ پیشانی بول کر ذات مراد لیتے ہیں یہ جملہ قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے"مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا"۔

۴؎ یعنی میرے اختیاری اعمال اور غیر اختیاری حالات پر تیری قضا و قدر نافذ ہے اور جو کچھ تو  نے مجھ پر حکم نافذ فرمایا ہے وہ عین عدل و انصاف ہے۔خیال رہے کہ یہاں حکم سے مراد تکوینی حکم ہے نہ کہ تشریعی۔حکم و امر میں بڑا فرق ہے،دنیا میں سب کچھ رب تعالٰی کے حکم قضا و قدر سے ہورہا ہے اس کے امر سے نہیں ہورہا ہے۔سب کو ایمان لانے،نماز پڑھنے کا امر ہے مگر بہت لوگ نہ ایمان لاتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں،نیز یہاں عدل سے مراد ظلم کا مقابل ہے نہ کے فضل کا یعنی تو ظلم سے پاک ہے۔

۵؎ اس عبارت سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رب تعالٰی کے نام بہت ہیں صرف ۹۹ نہیں جن احادیث میں ۹۹ نام مذکور ہیں وہاں مقصد یہ ہے کہ جو ان ناموں کا وظیفہ پڑھے گا بخشا جائے گا،یہ مطلب نہیں کہ رب کے صرف اتنے ہی نام ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسماء الہیہ تین قسم کے ہیں:بعض وہ جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہوئے اور عام مؤمنین نے جان لیے اور بعض وہ جو صرف انبیائے کرام،فرشتوں یا بعض اولیاء کو الہامًا سکھائے گئے اور بعض جو درمکنون کی طرف پردۂ غیب میں رکھے گئے کسی کو نہ بتائے گئے۔تیسرے یہ کہ اسماء الہیہ کی برکت ان کے توسل سے دعامانگنا چاہیےخواہ ہم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو،ا یسے اﷲ کے مقبول بندوں،نبیوں،ولیوں کی طفیل دعاء مانگنی چاہیے ہمیں ان کی تفصیل معلوم ہو یا نہ ہو۔

۶؎ یعنی جیسے موسم بہار زمین کی تمام خشکی بے رونقی دور کرکے اسے طرح طرح کی زینتوں سے آراستہ کردیتاہے ایسے ہی قرآن شریف کے ذریعے میرے دل کے رنج و غم،تاریکی سیاہی،گناہوں کی طرف میلان،حرص و ہوس،حسد  دور  فرما کر اس میں ایمان و عرفان،خوف خدا،عشق جناب مصطفےٰ کے پھل پھول لگادے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف مؤمن کے دل کی بہار ہے ایسے ہی صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم اس بہار کی جان ہیں۔

۷؎ اس طرح کہ رنج و غم کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور دل میں خوشی و راحت کی بارشیں ہوتی ہیں۔

۸؎ اسے احمد ابن حبان حاکم ابو یعلے موصلی،بزاز،طبرانی،ابن ابی شیبہ نے بھی انہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کیا۔
Flag Counter