روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی جگہ بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے ۱؎ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو فرمایا اگر اچھی بات کی جائے ۲؎ تو ان پر روز قیامت مہر ہوجائے اور اگر بری بات کی گئی ہو تو اس کا کفارہ ہوجائیں ۳؎ الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ۴؎(نسائی)
شرح
۱؎ فارغ ہو کر بلکہ وہاں سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہتے تھے۔(مرقات) ۲؎ یا تو اَنْ الف کے زبر سے ہے اور تکلم ت و ك کے پیش سے یعنی ان کلمات کا بول لینا،پڑھ لینا یا اِن الف کے کسرہ(زیر)سے اور تکلم ت اور ك کے زبر سے ہے یعنی اے عائشہ اگر تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو،پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔ ۳؎ یعنی جو دعائیہ کلمے میں پڑھا کرتا ہوں ان کی تاثیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اچھی باتیں کرکے یا کوئی عبادت کرکے یہ کلمات پڑھ لے تو یہ کلمات ان باتوں یا عبادتوں کے لیے مثل مہر کے ہوں گے کہ تا قیامت محفوظ رہیں گے اور حساب کے وقت وہ مقبول ہوں گے خود وہ کلمات بھی اور وہ عبادت یا دعا بھی جن پر یہ کلمات پڑھے گئے اور اگر کوئی بری باتیں بول کر یہ کلمات آخر میں کہہ لے تو یہ کلمات ان بری باتوں کا کفارہ بن جائیں گے کہ ان کی برکت سے رب تعالٰی ان برائیوں پر پکڑ نہ فرمائے گا اس لیے ہم ہر مجلس کے آخر میں یہ کلمات پڑھ لیتے ہیں۔ ۴؎ یہ ان کلمات کا بیان ہے جن کا فائدہ ابھی بیان ہوا۔ استغفار و توبہ کا فرق بیان ہوچکا ہے کہ گناہ سے معافی مانگنے کا نام استغفار ہےاور عیوب سے معافی مانگنے کا نام تو بہ،یا بڑے گناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے چھوٹے گناہوں سے معافی کا نام توبہ،یا کھلے گناہوں سے معافی استغفار اور چھپے گناہوں سے معافی توبہ وغیرہ،یہ بہت جامع دعا ہے جس میں رب تعالٰی کی حمد و ثناء بھی ہے اور توبہ و استغفار بھی۔