Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
66 - 671
حدیث نمبر66
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب آیا بولا  میں اپنی ادائے کتابت سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمایئے ۱؎ فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سکھائے تھے اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو  اﷲ تجھ سے ادا کرادے ۲؎ یہ پڑھا کرو ۳؎ خدایا مجھے اپنے حلال کے ذریعہ اپنے حرام سے تو  کافی ہوجا ۴؎ اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۵؎(ترمذی،بیہقی،دعوات کبیر)۶؎ اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ جب تم کتوں کا رونا سنو،الخ برتن ڈھکنے کے باب میں ان شاءاﷲ ذکر کریں گے ۷؎
شرح
۱؎ یعنے میرے مولا نے کچھ مال پر میری آزادی موقوف رکھی ہے جسے ادا کرکے میں آزاد ہوں اور میرے پاس وہ مال نہ ہے اور نہ اس کے حاصل کرنے پر قدرت ہے،براہ کرم مال یا دعا سے میری مدد فرمائیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت علی بفضل اﷲ العلی مشکلکشا دافع بلا ہیں،ان سے مصیبت میں مدد لینا شرک نہیں بلکہ سنت بزرگاں ہے۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ جناب علی نے دانستہ طور پر اس کی مالی مدد نہ کی کہ اس سے اس کا  کام تو چل جاتا مگر اسے غنا میسر نہ ہوتا،آپ نے اسے وہ دعا بتائی جس سے وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں سے غنی ہوگیا وقتی حاجت روائی سے سائل کو غنی بنا دینا بہتر ہے۔

۳؎ ہر نماز کے بعد ایک بار۔غالب یہ ہے کہ لفظ قل حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا تھا اور ہوسکتا ہے کہ آپ کا خود اپنا قول ہو۔(مرقات)مشائخ کو ہمیشہ حسب ضرورت اوراد وظیفہ ایجاد کرنے کا حق ہے جسے  اطباء کو معجونیں دوائیں ایجاد کرنے کا حق ہے اور منقولہ دعاؤں کی اجازت دینے کا بھی اختیارہے۔

۴؎ یعنی حلال روزی بھی اتنی دے کہ مجھے حرام کی طرف توجہ نہ ہو اور میرے دل میں حرص بھی نہ پیدا ہونے دے تاکہ میں حرام سے بچا رہوں خلاصہ یہ ہے کہ کفایت وہ قناعت دونوں نصیب کر۔

۵؎ کہ دنیا  والوں کے پاس حاجت لے کر مجھے نہ جانا پڑے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بے پرواہی تو سخت محرومی بلکہ کفر ہے، شیطان نبوت سے بے پرواہ ہوکر مارا گیا۔

۶؎    اسے حاکم نے بھی روایت کیا ،یہ دعا بہت مجرب ہے فقیر کا اس پر عمل ہے اور اس کا بہت فائدہ   فقیر زمارہا ہے۔

۷؎ یعنے مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر میں نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس باب میں ذکر نہ کیا۔ان شاءاﷲ اس کی وجہ مناسبت وہاں ہی بیان کی جائے گی۔
Flag Counter